ٹرمپ اور جن پنگ کی بیجنگ میں آج ملاقات، گریٹ ہال آف دی پیپل کے باہر استقبال ہوگا
بیجنگ، 14 مئی (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر بیجنگ پہنچ چکے ہیں۔ آج گریٹ ہال آف دی پیپل کے باہر ٹرمپ کا استقبال ہوگا۔ اس کے بعد ان کی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات ہوگی۔ نومبر 2017 کے بعد ٹرمپ دوسری بار چین پہنچے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ آپس میں کچھ بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ فوٹو 30 اکتوبر 2025 کی ہے۔ دونوں جنوبی کوریا کے بوسان میں واقع گمہے ایئر بیس پر دو طرفہ ملاقات کے بعد رخصت ہو رہے ہیں۔


بیجنگ، 14 مئی (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر بیجنگ پہنچ چکے ہیں۔ آج گریٹ ہال آف دی پیپل کے باہر ٹرمپ کا استقبال ہوگا۔ اس کے بعد ان کی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات ہوگی۔ نومبر 2017 کے بعد ٹرمپ دوسری بار چین پہنچے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ چین جوہری ہتھیاروں کے معاہدے میں شامل ہو مگر بیجنگ اس کے لیے خاصا پرجوش نہیں ہے۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ’شنہوا‘ اور امریکہ کے نیوز چینل ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق، چین کے صدر شی جن پنگ جمعرات کی صبح بیجنگ میں دورے پر آئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ بات چیت سے پہلے شی گریٹ ہال آف دی پیپل کے باہر ٹرمپ کے لیے ایک استقبالیہ تقریب منعقد کریں گے۔

ٹرمپ 13 سے 15 مئی تک چین کے سرکاری دورے پر ہیں۔ گزشتہ نو برسوں میں کسی امریکی صدر کا یہ پہلا دورۂ چین ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے نومبر 2017 میں چین کا دورہ کیا تھا۔ چین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، دونوں رہنما دو طرفہ تعلقات اور عالمی امن و ترقی سے وابستہ اہم مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ٹرمپ کے اعلانیہ اہم اہداف میں سے ایک چین کے بڑھتے ہوئے جوہری عزائم پر لگام لگانا ہے۔ ٹرمپ کو یہ دورہ ہتھیاروں میں کمی پر بات چیت کرنے کا ایک موقع فراہم کر سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دینے کے لیے ایک بڑی مہم شروع کی ہے۔ ان میں جوہری ہتھیاروں کی پیداواری تنصیبات کے لیے عمارتیں بنانے کی خاطر گاوں کے گاوں مسمار کرنا بھی شامل ہے۔

فروری میں، امریکہ نے چین پر 2020 میں ایک خفیہ جوہری تجربہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم بیجنگ اس الزام کی تردید کر چکا ہے۔ چین کے ان اقدامات نے بین الاقوامی مبصرین کے درمیان ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ کا خوف پیدا کر دیا ہے۔ دہائیوں میں پہلی بار دنیا کی سب سے بڑی جوہری سپر پاورز کے پاس اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اب ٹرمپ ایک نیا اور بہتر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس میں چین بھی شامل ہو۔

ٹرمپ نے خود روس اور چین سے ہونے والے مبینہ خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ امریکہ اور روس کے درمیان بچا ہوا آخری جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کا معاہدہ فروری میں ختم ہو چکا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے معاہدہ ختم ہونے سے ایک دن پہلے کہا تھا، ’’صدر نے ماضی میں یہ واضح کیا ہے کہ 21 ویں صدی میں حقیقی ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے ایسا کچھ بھی کرنا ناممکن ہے جس میں چین شامل نہ ہو، کیونکہ اس کے پاس ہتھیاروں کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande