لال قلعہ دھماکہ معاملہ: این آئی اے نے چارج شیٹ داخل کی، 10 ملزمین کے نام شامل۔
نئی دہلی، 14 مئی (ہ س)۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے لال قلعہ دھماکہ کیس میں جمعرات کو دہلی کی پٹیالہ ہاوس کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی۔ این آئی اے نے اس معاملے میں 10 لوگوں کو ملزم نامزد کیا ہے۔ این آئی اے کے مطابق دھماکے میں 11 لوگ مارے گ
چارج


نئی دہلی، 14 مئی (ہ س)۔

قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے لال قلعہ دھماکہ کیس میں جمعرات کو دہلی کی پٹیالہ ہاوس کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی۔ این آئی اے نے اس معاملے میں 10 لوگوں کو ملزم نامزد کیا ہے۔

این آئی اے کے مطابق دھماکے میں 11 لوگ مارے گئے تھے۔ تقریباً 7,500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں این آئی اے نے بم دھماکے کے مجرم عمر النبی (متوفی) کو بھی بطور ملزم نامزد کیا ہے۔ چارج شیٹ داخل کرتے وقت، این آئی اے نے کہا کہ وہ ایک ضمنی چارج شیٹ داخل کر سکتی ہے۔ آج این آئی اے نے اس معاملے کے ملزم کو عدالت میں پیش کیا۔ ان کی عدالتی حراست آج ختم ہو رہی تھی جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔

این آئی اے کے مطابق 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب کار بم دھماکے کی منصوبہ بندی عمر النبی نے کی تھی۔ عمر النبی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔ این آئی اے نے ملزم دانش کو سری نگر سے گرفتار کیا۔ این آئی اے کے مطابق دانش نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم دھماکے سے قبل ایک راکٹ تیار کرنے کی کوشش کی۔ این آئی اے کے مطابق دانش نے عمر النبی کے ساتھ مل کر پوری سازش کو انجام دینے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔

این آئی اے کے مطابق پولیٹیکل سائنس کے گریجویٹ ، دانش کو عمر نے خودکش بمبار بننے کے لیے برین واش کیا تھا۔ انہوں نے اکتوبر 2024 میں کولگام کی ایک مسجد میں ڈاکٹر ماڈیول سے ملنے پر اتفاق کیا، جہاں سے انہیں فرید آباد، ہریانہ میں الفلاح یونیورسٹی میں قیام کے لیے لے جایا گیا۔ 10 نومبر 2025 کو لال قلعہ کے قریب کار بم دھماکہ میں استعمال ہوئی کارعامر رشید علی کے نام پر تھا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande