
نئی دہلی، 14 مئی (ہ س)۔ دہلی ایکسائز گھوٹالہ معاملے کی سماعت کرنے والی جسٹس سورن کانتا شرما کی دہلی ہائی کورٹ بنچ بعض افراد کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرے گی۔ جمعرات کو جسٹس شرما نے کہا کہ وہ اس معاملے میں مزید خاموش نہیں بیٹھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خلاف ہتک آمیز بیانات دینے پرمعاملے میں مدعا علیہ کے طور پر نامزد بعض افراد کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کریں گی۔
جسٹس شرما نے کہا کہ اروند کیجریوال، منیش سسودیا، اور درگیش پاٹھک کے اس معاملے میں سماعت کا بائیکاٹ کرنے کی وجہ سے، وہ کچھ سینئر وکلا کو امیکس کیوری کے طور پر مقرر کرنے کے عمل میں تھیں لیکن اس دوران کچھ لوگ عدالت کے خلاف توہین آمیز الزامات لگا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں وہ توہین عدالت کی کارروائی شروع کریں گی۔ عدالتی حکم شام 5 بجے جاری کیا جائے گا۔
اس سے قبل 8 مئی کو جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ نے کہا تھا کہ عدالت اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک کی نمائندگی کرنے والوں کی رضامندی کا انتظار کر رہی ہے۔
ہائی کورٹ نے 5 مئی کوعدالت کی معاونت کے لیے تین وکلا کو امیکس کیوری کے طور پر مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس سورن کانتا شرما کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ چونکہ اروند کیجریوال، منیش سسودیا، اور درگیش پاٹھک نے عدالتی سماعتوں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس لیے تین ایمیکس کیوری مقرر کیے جائیں گے۔
کیجریوال، سسودیا اور پاٹھک نے سماعت کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تینوں نے نہ تو خود اور نہ ہی کسی وکیل کے ذریعہ کوئی دلیل رکھنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ کو لکھا ہے کہ انہیں جسٹس سورن کانتا شرما پر اعتماد نہیں ہے اور وہ ستیہ گرہ میں حصہ لیں گے۔
اروند کیجریوال نے جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ پر سوال اٹھاتے ہوئے ان سے سماعت سے دستبرداری کا مطالبہ کیا تھا۔ کیجریوال نے جسٹس سورن کانتا شرما کو معاملے کی سماعت سے خود کو الگ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس طرح اس معاملے میں اب تک عدالتی کارروائی ہوئی ہے ، اس سے انہیں منصفانہ انصاف کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ کیجریوال نے سیشن کورٹ کے حکم کو غلط قرار دیا تھا، جسے دوسری طرف سنے بغیر دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 9 مارچ کو ہائی کورٹ میں پہلی سماعت کے دوران 23 ملزمان میں سے ایک بھی موجود نہیں تھا۔ عدالت میں صرف سی بی آئی ہی موجود تھی۔ تاہم، پہلی ہی سماعت میں جسٹس سورن کانتا شرما نے دوسرے فریق کے دلائل کو سنے بغیر کہہ دیا کہ پہلی نظر میں سیشن کورٹ کا حکم غلط لگتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد