کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا آسام پولیس کی کرائم برانچ کے دفتر پہنچے
گوہاٹی، 14 مئی (ہ س)۔ کانگریس کے قومی ترجمان پون کھیڑا پوچھ گچھ میں شامل ہونے کے لیے آج دوسرے دن بھی آسام پولیس کے کرائم برانچ کے دفتر پہنچے۔ بدھ کی رات بھی ان سے 10 گھنٹے کی پوچھ گچھ کی گئی تھی جس کے بعد انہیں جانے دیا گیا تھا۔ کھیڑا کے باہر نکلنے
Congress-leader-Pawan-Kheda-ri


گوہاٹی، 14 مئی (ہ س)۔ کانگریس کے قومی ترجمان پون کھیڑا پوچھ گچھ میں شامل ہونے کے لیے آج دوسرے دن بھی آسام پولیس کے کرائم برانچ کے دفتر پہنچے۔ بدھ کی رات بھی ان سے 10 گھنٹے کی پوچھ گچھ کی گئی تھی جس کے بعد انہیں جانے دیا گیا تھا۔ کھیڑا کے باہر نکلنے تک ریاستی کانگریس کے صدر گورو گوگوئی کی قیادت میں کانگریس کی ایک ٹیم گوہاٹی کرائم برانچ کے دفتر کے باہر چائے کی دکان پر کھڑی رہی ۔ واضح ہو کہ وزیر اعلیٰ کی اہلیہ رینیکی بھوئیاں شرما کے خلاف تین غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے کے الزامات عائد کرنے کے سلسلے میں پون کھیڑا کو کرائم برانچ کے دفتر میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا جا رہا ہے۔

کل کرائم برانچ کے دفتر پہنچنے پر پون کھیڑا نے وہاں موجود میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ انہیں عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔ کل، انہیں کرائم برانچ کے دفتر میں چائے کے ساتھ آسام کا پیڑا بھی کھلایا گیا۔ آج کامکھیا مندر میں درشن کرکے نکلے وزیر اعلی ڈاکٹر ہمانتا بسوا سرما نے اس بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ آسام کا پیڑا ذائقہ دار ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ پون کھیڑا گوہاٹی میں پریس کانفرنس میں الزامات عائد کرنے کے بعد سے روپوش ہو گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ کی اہلیہ نے کھیڑا کے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کرائم برانچ میں ایف آئی آر درج کرائی تھی ، جس کے پولیس کی ٹیم انہیں گرفتار کرنے کے لیے دہلی پہنچی تو وہ زیر زمین ہو گئے۔

اس دوران کھیڑا نے پہلے تلنگانہ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں پیشگی ضمانت کی اپیل کی۔ سپریم کورٹ نے انہیں گوہاٹی ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دینے کی ہدایت دی۔ اس دوران گوہاٹی ہائی کورٹ نے کھیڑا کو پیشگی ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد کھیڑا سپریم کورٹ میں دوبارہ حاضر ہوئے، جہاں عدالت نے انہیں پیشگی ضمانت دے دی لیکن ان پر کئی پابندیاں بھی عائد کر دیں، جس کے نتیجے میں کھیڑا آج کرائم برانچ میں پوچھ گچھ کے لیے حاضر ہوئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande