کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے خریف کی فصلوں کی امدادی قیمت بڑھانے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے
بھوپال، 14 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے مرکزی حکومت کی جانب سے خریف کی فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) میں اضافے کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے جذبات کو سمجھنا ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن م
ایم پی: کانگریس ریاستی صدر جیتو پٹواری (فائل فوٹو)


بھوپال، 14 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے مرکزی حکومت کی جانب سے خریف کی فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) میں اضافے کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے جذبات کو سمجھنا ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن محض ایم ایس پی کا اعلان کر دینا کافی نہیں ہے۔ کسانوں کو ان کی پیداوار کی اصل قیمت تبھی ملے گی جب ایم ایس پی کو قانونی ضمانت کا درجہ دیا جائے گا۔

جیتو پٹواری نے جمعرات کو میڈیا کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ مرکزی حکومت اور بی جے پی کسانوں کو ایم ایس پی کا فائدہ ملنے کے دعوے کرتی ہیں، لیکن زمینی سطح پر زیادہ تر کسانوں کو ان کی پیداوار کی امدادی قیمت نہیں مل پا رہی ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر زراعت اور سابق وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست کے عوام کو بتائیں کہ مدھیہ پردیش میں کون کون سی فصلیں حقیقت میں ایم ایس پی پر خریدی جا رہی ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ دالیں، تلہن، سرسوں، موٹا اناج اور مونگ جیسی کئی خریف فصلیں ایم ایس پی سے کم قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں، جس سے کسان معاشی نقصان اٹھانے پر مجبور ہیں۔ کسان قرض اور خاندانی ذمہ داریوں کے دباو میں کم قیمت پر پیداوار فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اگر حکومت واقعی کسانوں کے مفاد میں کام کرنا چاہتی ہے، تو ایم ایس پی سے کم قیمت پر خریداری کو قابلِ تعزیر جرم قرار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا مرکز اور ریاستی حکومتیں کسانوں کو ایم ایس پی کی قانونی ضمانت دینے کے لیے تیار ہیں؟

جیتو پٹواری نے کہا کہ کسانوں کو صرف اعلانات اور یقین دہانیاں نہیں بلکہ ان کی پیداوار کی منصفانہ قیمت ملنی چاہیے۔ انہوں نے کسانوں سے اپنے حقوق کے تئیں بیدار رہنے کی اپیل بھی کی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande