
شی جن پنگ نے کہا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات عالمی استحکام کے لیے اہم ہیں
بیجنگ، 14 مئی (ہ س)۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو بیجنگ میں انتہائی متوقع بات چیت کی۔ دونوں رہنماو¿ں نے باہمی دلچسپی کے دو طرفہ امور کے ساتھ ساتھ مغربی ایشیا، یوکرین کے بحران اور جزیرہ نما کوریا سمیت متعدد بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات بہتر ہونے کے لیے تیار ہیں۔ جن پنگ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو عالمی استحکام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق بیجنگ میں گریٹ ہال آف دی پیپل میں تقریباً دو گھنٹے طویل بات چیت کے دوران جن پنگ نے کہا کہ دنیا اس وقت بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور امریکہ اور چین کے تعلقات عالمی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ دونوں ممالک کو حریف نہیں بلکہ اتحادی بننا چاہیے۔ یہ بار بار ثابت ہو چکا ہے کہ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔
جن پنگ نے کہا کہ وہ چین امریکہ تعلقات کو ایک نئی سمت دینے کے لیے ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ سال 2026 ان کے تعلقات میں ایک تاریخی اور سنگ میل ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماو¿ں نے تزویراتی استحکام پر مبنی تعمیری چین امریکہ تعلقات کے نئے تصور پر اتفاق کیا۔ ان کے مطابق یہ تعلق تعاون، متوازن مسابقت، اختلافات کے انتظام اور امن کے عزم پر مبنی ہونا چاہیے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سرکاری دورہ چین کو اعزاز قرار دیتے ہوئے شی جن پنگ کو عظیم رہنما اور چین کو ایک عظیم ملک قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت اور تعاون کو مضبوط بنانے، اختلافات کو مناسب طریقے سے سنبھالنے اور دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات پہلے سے بھی زیادہ بہتر ہونے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دنیا کے معروف کاروباری رہنماو¿ں کو اپنے ساتھ چین لائے ہیں۔
بات چیت کے دوران چینی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات باہمی فائدے اور جیت پر مبنی ہیں۔ برابری کی بنیاد پر مذاکرات ہی اختلافات اور تنازعات کو حل کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔
شی جن پنگ نے انکشاف کیا کہ بدھ کو ہونے والے تازہ ترین تجارتی مذاکرات میں دونوں ممالک کی اقتصادی اور تجارتی ٹیموں نے متوازن اور مثبت نتائج حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے اسے دونوں ممالک اور پوری دنیا کے لیے اچھی خبر قرار دیا۔
تائیوان کے مسئلے کے بارے میں شی جن پنگ نے کہا کہ یہ چین امریکہ تعلقات میں سب سے اہم اور حساس موضوع ہے۔ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو انتہائی احتیاط کے ساتھ نمٹائے۔
ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق بات چیت کے دوران بین الاقوامی اور علاقائی مسائل کے علاوہ دو دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں فریقوں نے اس سال اپیک اقتصادی رہنماو¿ں کی میٹنگ اور جی-20 سربراہی اجلاس کی کامیابی کے ساتھ میزبانی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے پر اتفاق کیا۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ تین روزہ دورے پر بدھ کی شام بیجنگ پہنچے۔ ٹرمپ کا دورہ چینی صدر کی دعوت پر ہو رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ