
علی گڑھ, 14 مئی (ہ س)علی گڑھ کے شاہ جمال واقع وقف نمبر 63 کی زمین پر ناجائز قبضوں اور سڑک تعمیر کیے جانے کو لے کر مقامی لوگوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ الزام ہے کہ تقریباً 272 بیگھا قبرستان کی زمین میں سے آدھے سے زیادہ حصے پر پہلے ہی ناجائز قبضہ ہو چکا ہے اور اب قبضہ مافیا عارضی راستے کو پختہ سڑک میں تبدیل کرا رہے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سڑک کی تعمیر کے دوران راستے میں آنے والی کئی قبروں کو بھی توڑ دیا گیا ہے۔ مخالفت کے باوجود تعمیراتی کام مسلسل جاری ہے۔ یہ معاملہ شاہ جمال کے علاقے آٹھ کھمبے کے پیچھے واقع چرکھوالان کا بتایا جا رہا ہے، جو وارڈ نمبر 77 میں آتا ہے۔ مقامی سطح پر اس علاقے کو “بنگلہ دیش” اور “جھگی نگر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
وقف جائیداد سے وابستہ افراد نے الزام لگایا ہے کہ کچھ ناجائز قابضین اور مبینہ طور پر سٹے بازی سے وابستہ لوگ نگر نگم کو گمراہ کرکے سڑک تعمیر کرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس زمین پر سڑک بنائی جا رہی ہے وہ وقف نمبر 63 کی درج شدہ قبرستان کی زمین ہے، جس کا خسرہ نمبر 2521 بتایا گیا ہے۔
اس سلسلے میں سنی سینٹرل وقف بورڈ لکھنؤ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو تحریری شکایت بھیجی گئی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ قبرستان کی زمین پر ناجائز قبضہ کرکے پختہ سڑک بنائی جا رہی ہے، لہٰذا فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے تعمیراتی کام رکوایا جائے۔
شکایت کنندہ معین الدین عرف مونو نے بتایا کہ نگر آیوکت کو بھی اس معاملے سے آگاہ کر دیا گیا ہے، جبکہ سی ای او وقف بورڈ لکھنؤ کو ای میل اور رجسٹری کے ذریعے شکایت روانہ کی جا چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت کارروائی نہ ہوئی تو وقف املاک پر ناجائز قبضوں کو مزید فروغ ملے گا اور قبرستان کی زمین مکمل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔
-----------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ