اے پی سی آر نے کرناٹک حکومت کی جانب سے حجاب پابندی ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا
نئی دہلی: 14 - مئی(ہ س)۔ ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے. پی. سی. آر) نے کرناٹک حکومت کی جانب سے فروری 2022 کے متنازع حکم نامے کو واپس لینے اور نئے رہنما خطوط جاری کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، جن کے تحت طلبہ کو مقررہ اسکولی یونیفا
اے پی سی آر نے کرناٹک حکومت کی جانب سے حجاب پابندی ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا


نئی دہلی: 14 - مئی(ہ س)۔

ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے. پی. سی. آر) نے کرناٹک حکومت کی جانب سے فروری 2022 کے متنازع حکم نامے کو واپس لینے اور نئے رہنما خطوط جاری کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، جن کے تحت طلبہ کو مقررہ اسکولی یونیفارم کے ساتھ اپنے مذہبی اور روایتی شعائر اختیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اے پی سی آر نے اس معاملے میں ان طلبہ کو قانونی معاونت فراہم کی تھی جو حجاب پابندی سے متاثر ہوئے تھے، جبکہ یہ مقدمہ بعد ازاں سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیرِ سماعت رہا جہاں عدالت کی جانب سے تقسیم شدہ فیصلہ سامنے آیا تھا۔

اپنے جاری کردہ بیان میں اے۔ پی۔ سی۔ آر۔ نے کہا کہ اگرچہ یہ اقدام تاخیر سے کیا گیا ہے، تاہم اس سے ا±ن طلبہ کی عزتِ نفس بحال ہوئی ہے جو اپنی مذہبی شناخت اور تعلیم دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق حجاب یا دیگر مذہبی علامات اختیار کرنے کا حق نہ صرف ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت مذہبی آزادی سے جڑا ہوا ہے بلکہ یہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ہر فرد کی جسمانی خودمختاری کا بھی بنیادی حصہ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 2022 کی پابندی نے ہزاروں طالبات اور ان کے خاندانوں کو شدید ذہنی، تعلیمی اور سماجی نقصان پہنچایا۔ متعدد طالبات کو کلاس رومز میں داخلے سے روکا گیا، خاندانوں کو ہجوم کے نفرتی رویّوں کا سامنا کرنا پڑا اور طالبات کو اپنے ایمان اور تعلیم کے درمیان انتخاب پر جبرا مجبور کیا گیا۔ اے۔ پی۔ سی۔ آر۔ کے مطابق اس نقصان کا مکمل ازالہ ممکن نہیں، تاہم تعلیمی اداروں کو مزید جامع، باوقار اور متنوع شناخت کے احترام پر مبنی ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

تنظیم نے واضح کیا کہ یونیفارم پالیسیوں کا مقصد نظم و ضبط اور اجتماعی شناخت کو فروغ دینا ہے، نہ کہ کسی مذہبی یا سماجی طبقے کے لیے تعلیمی ماحول کو غیر دوستانہ بنانا۔ نئے رہنما خطوط اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ حجاب، پگڑی یا مقدس دھاگے جیسے مذہبی شعائر تعلیمی نظام میں رکاوٹ نہیں ہیں بلکہ شمولیت اور تنوع کے مظہر ہیں۔

اے۔ پی۔ سی۔ آر۔ نے اس بات کو بھی سراہا کہ نئے رہنما خطوط میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی طالب علم کو منظور شدہ مذہبی علامت پہننے کی بنیاد پر کلاس روم یا امتحان میں داخلے سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی کسی طالب علم کو ایسی علامات پہننے یا اتارنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ تنظیم نے کرناٹک کے تمام اسکولوں اور کالج انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان رہنما خطوط پر مکمل سنجیدگی اور غیر جانبداری کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنائیں۔

اے پی سی آر نے تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں پر بھی زور دیا کہ وہ اس معاملے کو مزید فرقہ وارانہ رنگ دینے سے گریز کریں، کیونکہ تعلیم کو نظریاتی یا سیاسی کشمکش کا میدان بنانے کے بجائے سیکھنے اور ترقی کا محفوظ ذریعہ رہنا چاہیے۔

بیان کے اختتام پر اے۔ پی۔ سی۔ آر۔ نے اعادہ کیا کہ وہ مذہب، ذات یا برادری سے بالاتر ہوکر تمام شہریوں کے شہری حقوق اور آئینی آزادی کے تحفظ کے لیے اپنی جدو جہد جاری رکھے گی، اور اگر کسی طالب علم یا خاندان کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا تو تنظیم ان کی قانونی و سماجی معاونت کے لیے ہر وقت تیار رہے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande