علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اے آئی ریسرچ لیب کے قیام کے لئے سابق طالبہ کی جانب سے 34 لاکھ کا عطیہ
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اے آئی ریسرچ لیب کے قیام کے لئے سابق طالبہ کی جانب سے 34 لاکھ کا عطیہ علی گڑھ, 14 مئی (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ایک مخصوص ریسرچ لیبارٹری ، اے
عطیہ کا چیک پیش کرتے ہوئے


علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اے آئی ریسرچ لیب کے قیام کے لئے سابق طالبہ کی جانب سے 34 لاکھ کا عطیہ

علی گڑھ, 14 مئی (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ایک مخصوص ریسرچ لیبارٹری ، اے ایم کی سابق طالبہ ڈاکٹر مسرت شکوہ (اسپیشلسٹ، زچگی و امراض نسواں، وزارت داخلہ، سعودی عرب) کی جانب سے 34 لاکھ روپے کے عطیہ سے قائم کی جائے گی۔

ڈاکٹر شکوہ کے بیٹے مسٹر سید محمد وحید نے مذکورہ رقم کا چیک اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کو پیش کیا۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان، رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر مجیب اللہ زبیری، پراکٹر پروفیسر محمد نوید خاں، فائنانس آفیسر مسٹر نورالسلام اور مسٹر وحید کے والد مسٹر سید حسین وحید موجود تھے۔

یہ اے آئی لیب، کمپیوٹر انجینئرنگ شعبہ میں قائم کی جائے گی، جہاں اپلائیڈ اے آئی تحقیق، جنریٹیو اے آئی، اے آئی ایجنٹس، ایجنٹک اے آئی سسٹمز، ریٹریول آگمینٹڈ جنریشن اور ایتھیکل اے آئی فریم ورکس پر کام کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون اور طلبہ کی جدید تربیت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اے ایم یو کے سابق طلبہ کی یونیورسٹی سے جذباتی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو علم کی تخلیق اور قوم کی تعمیر میں کردار ادا کرنے کی ترغیب بھی دیتے ہیں۔

مسٹر سید محمد وحید، جو عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ اے آئی سفیر ہیں اور مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات پر اپنی تحریروں کے لئے جانے جاتے ہیں ، اس سے قبل حکومت برطانیہ کے ایک اے آئی ریسرچ پروجیکٹ میں اے آئی ریسرچ آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ اس لیبارٹری کے اسٹریٹجک ایڈوائزر کے طور پر کام کریں گے۔ ان کے کنبہ کا اے ایم یو سے گہرا تعلق ہے اور انہوں نے اس لیب کا تصور یونیورسٹی میں اے آئی تحقیق، جدت اور ذمہ دارانہ اے آئی گوورننس کو فروغ دینے کے لیے پیش کیا۔

سید محمد وحید نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اے ایم یو جیسے ادارے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی عالمی اے آئی دنیا میں فعال کردار ادا کریں۔ یہ لیب نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے، ایتھیکل اے آئی تحقیق کو فروغ دینے اور طلبہ کو ذہین ٹکنالوجیز کے مستقبل کے لیے تیار کرنے میں مدد دے گی۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande