ایس ایم ایس اسپتال کو بم سے اڑانے کی دھمکی موصول
جے پور، 13 مئی (ہ س)۔ ریاست کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال، سوائی مان سنگھ (ایس ایم ایس) اسپتال کو بدھ کی صبح بم کی دھمکی ملی، جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، بم اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ، سول ڈیفنس اور دیگر سیکیورٹی ادارے الرٹ ہوگئے اور اسپ
ایس ایم ایس اسپتال کو بم سے اڑانے کی دھمکی موصول


جے پور، 13 مئی (ہ س)۔

ریاست کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال، سوائی مان سنگھ (ایس ایم ایس) اسپتال کو بدھ کی صبح بم کی دھمکی ملی، جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، بم اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ، سول ڈیفنس اور دیگر سیکیورٹی ادارے الرٹ ہوگئے اور اسپتال کے احاطے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردیا۔ کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد بھی اسپتال کے احاطے سے کوئی مشکوک چیز یا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔

ایس ایم ایس اسٹیشن ہاو¿س آفیسر راجیش شرما نے بتایا کہ ایک کال کرنے والے نے ایس ایم ایس اسپتال کے احاطے میں بم کی اطلاع دیتے ہوئے پولیس کنٹرول روم کو فون کیا تھا۔ اطلاع ملنے پر پولیس انتظامیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ہسپتال کے مختلف وارڈز، او پی ڈی، ایمرجنسی یونٹ، پارکنگ ایریا اور دیگر حساس مقامات کی مکمل تلاشی لی۔

صبح 8 بجے کے قریب او پی ڈی شروع ہونے کے بعد سے مریضوں اور ان کے لواحقین کی بڑی تعداد اسپتال میں موجود تھی۔ بم کی اطلاع ملتے ہی اسپتال کے احاطے میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم، پولیس اور اسپتال انتظامیہ نے صورتحال پر قابو پالیا، مریضوں اور لواحقین سے پرسکون رہنے کی اپیل کی، اور سیکورٹی کو برقرار رکھا۔

پولیس حکام کے مطابق ڈاگ اسکواڈ اور بم اسکواڈ نے اسپتال کے ہر کونے کی تلاشی لی تاہم کوئی مشکوک مواد نہیں ملا۔ سکیورٹی کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور اسپتال کے احاطے میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔

پولیس کی جانچ میں پتہ چلا کہ دھمکی آمیز کال مہندر گڑھ، ہریانہ سے کی گئی تھی۔ جے پور پولیس کی معلومات کی بنیاد پر ہریانہ پولیس نے ملزم مونو گپتا کو حراست میں لے لیا ہے۔ جے پور پولیس کی ایک ٹیم اسے پوچھ گچھ کے لیے جے پور لائے گی۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ معاملہ مذاق اور افواہ پھیلانے والا ہے، تاہم پولیس تمام پہلوو¿ں سے تفتیش کر رہی ہے۔ ودھایک پوری پولیس اسٹیشن میں کیس درج کرکے مزید کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande