
ریاستی حکومت کی جانب سے ’پوش‘ قانون کے سخت نفاذ کی ہدایت، تمام سرکاری و نجی اداروں میں داخلی کمیٹی لازمی قرارتھانے، 13 مئی (ہ س)۔ ریاستی حکومت نے خواتین کی حفاظت کے پیش نظر تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں میں “کام کی جگہ پر خواتین کے جنسی ہراسانی سے تحفظ، ممانعت اور ازالہ قانون 2013” یعنی “پوش” (ہی او ایس ایچ) قانون کے مؤثر نفاذ کی ہدایت دی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ خواتین و اطفال ترقیات کی جانب سے ایک اہم سرکیولر جاری کیا گیا ہے۔ سرکیولر کے مطابق جن اداروں میں 10 یا اس سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں وہاں “انٹرنل کمیٹی” (آئی سی) قائم کرنا آجر کی قانونی ذمہ داری ہوگی۔ اس کمیٹی کی رجسٹریشن مرکزی حکومت کے “شی باکس” پورٹل پر کرانا بھی اب لازمی قرار دیا گیا ہے۔ محکمہ کے مطابق کئی نجی اداروں میں اب تک ایسی کمیٹیاں قائم نہیں کی گئی ہیں اور شی باکس پورٹل پر رجسٹریشن کی شرح بھی انتہائی کم دیکھی گئی ہے۔ناسک کی ایک معروف ملٹی نیشنل کمپنی میں حال ہی میں مبینہ طور پرجنسی ہراسانی، چھیڑ چھاڑاوراستحصال کا سنگین معاملہ سامنے آنے کے بعد ریاستی حکومت نے یہ سخت قدم اٹھایا ہے۔ سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ اگر شکایت ازالہ نظام مضبوط نہ ہو تو ایسے واقعات کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ کی جانب سے “اوریلیانو فرنانڈیس بنام ریاست گوا” مقدمے میں دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کو بھی لازمی قرار دیا ہے۔ خواتین کی شکایات کا فوری اور غیر جانبدارانہ ازالہ یقینی بنانے کے لیے ہر دفتر میں فعال داخلی کمیٹی ہونا ضروری بتایا گیا ہے۔سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کرنا صرف اخلاقی نہیں بلکہ قانونی ذمہ داری بھی ہے، اس لیے تمام سرکاری محکمے، عوامی ادارے، تعلیمی تنظیمیں اور نجی کمپنیاں اس قانون پر سختی سے عمل کریں۔ساتھ ہی ملازمین کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرام اور بیداری مہم چلانے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ضلع خواتین و اطفال ترقیات افسر نمیتا شندے نے بتایا کہ ضلع کے تمام اداروں کی اس قانون کے تحت جانچ کی جائے گی، جبکہ جن اداروں نے اب تک داخلی کمیٹی قائم نہیں کی ہے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے