
کولکاتا ، 13 مئی (ہ س)۔مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کی ایندھن کو بچانے کی اپیل کے بعد، مغربی بنگال کے وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری نے اپنے سرکاری قافلے میں گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے سیکورٹی حکام کو غیر ضروری گاڑیوں کو ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔بدھ کو بھوانی پور سے ایم ایل اے کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد اسمبلی احاطے کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے سیکورٹی اہلکاروں سے کہا ہے کہ قافلے میں صرف ضروری گاڑیاں رکھیں۔
وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری کو مرکزی سیکورٹی کے ساتھ زیڈ پلس سیکورٹی حاصل ہے۔ اس وجہ سے ان کے قافلے میں عموماً گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔ تاہم ، ایندھن کی بچت کے لیے وزیر اعظم کی اپیل کے بعد، انہوں نے حفاظتی پروٹوکول کو برقرار رکھتے ہوئے قافلے کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔
دراصل وزیر اعظم نریندر مودی نے سرکاری افسران اور نجی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مغربی ایشیا میں جاری بحران کی وجہ سے بڑھتے ہوئے معاشی دباو¿ کی روشنی میں ایندھن کی کھپت کو کم کریں۔ اس اقدام کے ایک حصے کے طور پر، وزیر اعظم نے اپنے قافلے میں گاڑیوں کی تعداد کو تقریباً 50 فیصد تک کم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی اپنے قافلے میں گاڑیوں کی تعداد کم کرکے ایسا ہی قدم اٹھایا ہے۔
بدھ کو شبھیندو ادھیکاری نے مغربی بنگال اسمبلی میں بھوانی پور سے ایم ایل اے کے طور پر حلف لیا۔ ان کے ساتھ کئی وزراءاور نو منتخب ایم ایل ایز نے بھی اپنے عہدے کا حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب پروٹیم اسپیکر تاپس رائے نے چلائی۔اس دوران بی جے پی کے کئی ممبران اسمبلی نے بھی وزیر اعظم کی اپیل پر دھیان دیا اور حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے بسوں کے ذریعے اسمبلی پہنچے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سرکردہ رہنماو¿ں کے ان اقدامات کو مغربی ایشیا کی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے پیدا ہونے والے معاشی دباو¿ کے لیے علامتی اور انتظامی ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan