امریکہ میں ویزا قوانین کی خلاف ورزی کا معاملہ : 10 ہزار طلباء پرمشکوک کمپنیوں میں کام کرنے کا الزام ، ہندوستانی بھی شامل
واشنگٹن، 13 مئی (ہ س)۔ امریکہ کے ایمیگریشن اور داخلی سلامتی کے محکمہ نے 10,000 غیر ملکی طلباءکی نشاندہی کی ہے جن پر مشکوک آجروں کے لیے کام کرنے کے لیے ویزا کی اختیاری عملی تربیت (او پی ٹی) کی فراہمی کا غلط استعمال کرنے کا الزام ہے۔ ان میں بڑی تعداد
ویزا


واشنگٹن، 13 مئی (ہ س)۔ امریکہ کے ایمیگریشن اور داخلی سلامتی کے محکمہ نے 10,000 غیر ملکی طلباءکی نشاندہی کی ہے جن پر مشکوک آجروں کے لیے کام کرنے کے لیے ویزا کی اختیاری عملی تربیت (او پی ٹی) کی فراہمی کا غلط استعمال کرنے کا الزام ہے۔ ان میں بڑی تعداد میں ہندوستانی نوجوان بھی شامل ہیں۔ او پی ٹی ا سٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ آنے والے غیر ملکی طلباء کو 12 ماہ تک اور بعض حالات میں 24 ماہ تک کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ آجر کے زیر کفالت ایچ-1بی ویزا میں تبدیل ہونے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر ٹوڈ لائنس نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسٹوڈنٹ ویزا پروگرام کی او پی ٹی کی فراہمی دھوکہ دہی کا مرکز بن گئی ہے۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے نے متعدد بار اس کی چھان بین کی ہے۔ یہ طلباءجاسوسی، بائیو تھریٹس، دانشورانہ املاک کی چوری، ویزا اور ملازمت کے فراڈ میں ملوث ہیں۔ بہت سے لوگوں نے بزرگ امریکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ غیر ملکی طلباءکے پروگرام سے لاحق سیکورٹی خطرات کو برداشت نہیں کرے گا۔

لائنسنے کہا کہ زیادہ تر طلباءمشکوک کمپنیوں میں نوکریوں کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سی کمپنیاں صرف کاغذ پر موجود ہیں۔ اس فراڈ میں ملوث افراد کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ حکام نے ایسی سرگرمیوں میں ملوث طلباءکو مشورہ دیا ہے کہ وہ یا تو اپنے ملک واپس جائیں یا فوری طور پر خودسپردگی کر دیں۔ دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد ان کا ویزہ منسوخ کر دیا جائے گا۔ ان مشکوک کمپنیوں کا نیٹ ورک ٹیکساس، ورجینیا اور نیو جرسی سمیت کئی ریاستوں میں پھیلا ہوا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande