
نئی دہلی، 13 مئی (ہ س)۔ بدھ کو سبریمالا مندر مقمدے کی سماعت کے 15 ویں دن سپریم کورٹ نے تبصرہ کیا کہ ہندو مذہب زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے، اور جو لوگ اس کے اندر عقیدہ رکھتے ہیں، ان کے لیے مندر جانا لازمی نہیں ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی نو رکنی آئینی بنچ نے کہا کہ اگر کوئی فرد اپنے گھر یا جھونپڑی میں بھگوان کے لئے چراغ جلاتا ہے تو صرف یہی عمل اس کے عقیدے اور مذہب کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔
بدھ کو سماعت کے دوران، درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل ڈاکٹر جی موہن گوپال نے کہا کہ سماجی انصاف کے مطالبات خود مذہبی برادریوں کے اندر سے ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مت کو ایک مخصوص مذہبی زمرہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد، 1966 میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایک ہندو وہ ہے جو تمام مذہبی اور فلسفیانہ معاملات میں ویدوں کی بالادستی کو قبول کرتا ہے. اس پر جسٹس بی وی ناگرتھنا نے تبصرہ کیا کہ یہی وجہ ہے کہ ہندو مذہب کو زندگی کا طریقہ کہا جاتا ہے۔ ایک ہندو کے لیے، ہندو رہنے کے لیے مندر جانا یا مخصوص رسومات ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو بھی اپنے عمل میں رسمی ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی دوسرے کے عقیدے میں مداخلت کر سکتا ہے۔
دراصل 28 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ کی ایک آئینی بنچ جس میں چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس آر ایف۔ نریمن، اے ایم کھنولکر، ڈی وائی چندرچوڑ، اور اندو ملہوترا شامل تھے نے 4:1 کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سبریمالا مندر میں خواتین کے داخلے پر پابندی کا رواج غیر آئینی ہے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ خواتین کو کافی عرصے سے امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عدالت نے زور دے کر کہا کہ عورتیں مردوں سے کمتر نہیں ہیں۔ جہاں ایک طرف ہم خواتین کو خدائی مظہر کے طور پر تعظیم دیتے ہیں تو دوسری طرف ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ عورت کے مذہبی عقیدے کی آزادی کو حیاتیاتی یا جسمانی بنیادوں پر نہیں روکا جا سکتا۔
اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے جسکی سماعت کا بدھ کو 15 واں دن تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد