
نیٹ پیپر لیک کو ریاستی حکومت کی ناکامی قرار دیاتھانے، ، 13 مئی (ہ س)۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار گروپ) کے ضلع صدر منوج پردھان نے نیٹ امتحان 2026 کے مبینہ پیپر لیک معاملے پر مہاراشٹر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں پیپر لیک کے پانچ معاملات سامنے آ چکے ہیں، اس لیے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خود احتسابی کرنا چاہیے کہ آیا ریاست میں واقعی قانون و انتظام کی صورتحال موجود ہے یا نہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہر بڑے پیپر لیک معاملے میں ناسک کا ہی نام کیوں سامنے آتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مرکزی امتحانی نظام ختم کر کے پہلے کی طرح ریاستی سطح کے امتحانات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔منوج پردھان نے کہا کہ ملک بھر کے تقریباً 22 لاکھ طلبہ نے 3 مئی 2026 کو نیٹ امتحان دیا تھا، جن میں مہاراشٹر کے تقریباً ڈھائی لاکھ طلبہ شامل تھے، جبکہ تھانے ضلع کے 12 ہزار 862 طلبہ نے بھی امتحان میں شرکت کی تھی۔انہوں نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے حوالے سے کہا کہ خفیہ رپورٹوں اور ابتدائی جانچ میں امتحانی عمل کی رازداری متاثر ہونے کی بات سامنے آئی، جس کے بعد دوبارہ امتحان لینے کا فیصلہ کیا گیا۔منوج پردھان نے کہا کہ مارچ میں پونے پولیس نے ایک 18 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا تھا، جو ٹیلیگرام گروپ کے ذریعے ایس ایس سی بورڈ کے پرچے امتحان سے قبل فراہم کرنے کے نام پر طلبہ سے رقم وصول کر رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپریل 2026 میں ممبئی یونیورسٹی کے پیپر لیک معاملے میں بی کے سی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ نومبر 2025 میں کولہاپور ضلع میں ٹی ای ٹی پیپر لیک ریکیٹ کا پردہ فاش ہوا تھا۔انہوں نے بتایا کہ جون 2025 میں واگھولی انجینئرنگ کالج میں بھی ایک پروفیسر کو پرچہ لیک معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ تمام معاملات ریاستی حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔نوج پردھان نے کہا کہ نیٹ امتحان منسوخ ہونے سے لاکھوں طلبہ کی محنت اور خواب برباد ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی طلبہ کے والدین نے زیورات فروخت کیے اور قرض لے کر بچوں کی تعلیم جاری رکھی، اس لیے یہ صرف پیپر لیک نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل کے خلاف جرم ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھانے ضلع کے 12 ہزار 862 طلبہ کی دوبارہ امتحان لینے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے