اورنگ آباد میں ایم آئی ایم کارپوریٹر متین پٹیل کی املاک پر بلڈوزر کارروائی
اورنگ آباد ، 13 مئی (ہ س) ناسک کے مبینہ تبدیلیٔ مذہب معاملے کی ملزمہ ندا خان کو مبینہ طور پر پناہ دینے کے الزام کے بعد اورنگ آباد میں ایم آئی ایم کارپوریٹر متین پٹیل کے خلاف میونسپل کارپوریشن نے بڑی کارروائی انجام دیتے ہوئے ان کی مبینہ غیرقانونی ت
Politics MIM Demolition Row


اورنگ آباد ، 13 مئی (ہ س) ناسک کے مبینہ تبدیلیٔ مذہب معاملے کی ملزمہ ندا خان کو مبینہ طور پر پناہ دینے کے الزام کے بعد اورنگ آباد میں ایم آئی ایم کارپوریٹر متین پٹیل کے خلاف میونسپل کارپوریشن نے بڑی کارروائی انجام دیتے ہوئے ان کی مبینہ غیرقانونی تعمیرات پر بلڈوزر چلا دیا۔ اس کارروائی کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا۔اطلاعات کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً 6:15 بجے اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کی ٹیم بھاری پولیس بندوبست کے ساتھ نارےگاؤں علاقے میں پہنچی، جہاں متین پٹیل سے منسلک تین مبینہ غیرقانونی املاک کے خلاف انہدامی کارروائی کی گئی۔ اس دوران تین جے سی بی مشینوں کی مدد سے تعمیرات کو منہدم کیا گیا۔

کارروائی کی اطلاع ملتے ہی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے ہی اپنے حامیوں اور پارٹی کے 34 کارپوریٹرس کے ساتھ نارےگاؤں پہنچ گئے تھے۔ علاقے میں بڑی تعداد میں کارکنوں کی موجودگی کے باعث حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔ایم آئی ایم کی جانب سے اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا گیا۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مخصوص سیاسی دباؤ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے اور متین پٹیل کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب میونسپل انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ تعمیرات کے سلسلے میں پہلے ہی نوٹس جاری کیے گئے تھے، لیکن کارپوریٹر متین پٹیل کی جانب سے اس کا کوئی مناسب قانونی جواب نہیں دیا گیا۔ حکام کے مطابق بعد میں عدالت سے بھی رجوع کیا گیا، تاہم وہاں سے کوئی راحت نہیں ملی۔ اس کے بعد میونسپل کمشنر اور پولیس حکام کی نگرانی میں سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان انہدامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ کارروائی کے دوران علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

واضح رہے کہ ناسک کے مبینہ تبدیلیٔ مذہب معاملے میں ندا خان کی گرفتاری کے بعد متین پٹیل پر انہیں پناہ دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande