
بھوپال میں مسلم نوجوان کے ساتھ مار پیٹ کے خلاف رات بھر ہنگامہ، ہجوم نے پتھراو کیا، پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے
پرانے شہر کے حساس علاقوں میں دفعہ 144 نافذ
بھوپال، 13 مئی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے پرانے شہر میں منگل کی رات اس وقت کشیدگی بڑھ گئی، جب ایک مسلم نوجوان کے ساتھ مار پیٹ اور نازیبا سلوک کے خلاف ہزاروں لوگ سڑکوں پراترآئے۔ صورتحال اس قدر خراب ہوگئی کہ پولیس کو بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑنے پڑے اور پرانے شہر کے حساس علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کرنی پڑی۔
دراصل، یہ واقعہ 9 مئی کا ہے، جب گوتم نگر کے ایک ہوٹل میں ہندو تنظیم کے کچھ کارکنوں نے ایک مسلم نوجوان اور ہندو لڑکی کو پکڑا تھا۔ الزام ہے کہ کارکنوں نے نوجوان کے ساتھ مار پیٹ کی، اس کے چہرے پر سیاہی اور گوبر ملا اور اسے نیم برہنہ کر کے ذلیل کیا۔ اس دوران کی گئی قابلِ اعتراض مذہبی تبصروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔
اسی معاملے کو لے کر منگل کی دوپہر سے ہی تاج المساجد، پیر گیٹ اور امامی گیٹ کے علاقوں میں بھیڑ جمع ہونا شروع ہو گئی تھی۔ شہر قاضی، رکن اسمبلی عارف مسعود اور عاطف عقیل نے پولیس کمشنر سے ملاقات کر کے ملزمان پر این ایس اے لگانے اور 24 گھنٹے میں گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
رات تقریباً 8.30 بجے پولیس کارروائی میں تاخیر کا الزام لگاتے ہوئے بھیڑ مشتعل ہو گئی۔ رات 1 بجے تک جاری رہنے والے اس احتجاج کے دوران موتی مسجد کے علاقے میں پولیس پر پتھراو کیا گیا، جس سے تھانہ تلیا کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔ جواب میں پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور ہلکی طاقت کا استعمال کر کے ہجوم کو منتشر کیا۔ حالات کے پیشِ نظر پرانے شہر میں بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ اے سی پی انیل واجپئی کے مطابق، فی الحال صورتحال قابو میں ہے اور پولیس مسلسل گشت کر رہی ہے۔ اس پورے معاملے میں اہم موڑ تب آیا جب لڑکی نے پولیس کی پوچھ گچھ میں واضح کیا کہ وہ نوجوان (عارف خان) کے ساتھ گزشتہ 5 برسوں سے ’لیو ان ریلیشن شپ‘ میں ہے۔ لڑکی نے کسی بھی طرح کی زبردستی سے انکار کیا اور بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے ہوٹل پہنچی تھی۔ لڑکی نے نوجوان کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کرنے سے منع کر دیا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کی نہ صرف گرفتاری ہو، بلکہ ان کے خلاف ’بلڈوزر کارروائی‘ بھی کی جائے۔ مسلم سماج کے نمائندوں نے وارننگ دی ہے کہ اگر 24 گھنٹے کے اندر سخت اقدامات نہ اٹھائے گئے، تو بھوپال بند کی کال دی جائے گی۔ فی الحال پورے علاقے میں پولیس الرٹ پر ہے اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹ ڈالنے والوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن