
کٹھمنڈو، 13 مئی (ہ س)۔ نیپال انویسٹمنٹ میگا بینک لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) جیوتی پرکاش پانڈے کو دھوکہ دہی کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ اپنا موبائل فون بند کر کے حکام سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا،لیکن آج صبح کاٹھمنڈو کے باہر واقع سندھولی ضلع کے ایک بس پارک سے اسے گرفتار کیا گیا۔
نیپال پولیس کے سنٹرل انویسٹی گیشن بیورو (سی آئی بی) کے چیف اے آئی جی منوج کے سی نے بتایا کہ پانڈے کو آج صبح تقریباً 8 بجے مدن بھنڈاری ہائی وے پر گاڑیوں کی معمول کی جانچ کے دوران گرفتار کیا گیا۔ پانڈے کو اسمارٹ ٹیلی کام سے متعلق اثاثوں کی خرید و فروخت کے معاملے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اسمارٹ ٹیلی کام کو نیپال میں ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کے لیے بنیادی ٹیلی فون سروس کا لائسنس دیا گیا تھا۔ تاہم، کمپنی ریگولیٹری اصولوں کے مطابق اپنے لائسنس کی تجدید کرنے میں ناکام رہی۔ نتیجتاً، کمپنی کا لائسنس خود بخود منسوخ ہو گیا۔ اس کے بعد، ٹیلی کمیونیکیشن سروس پرووائیڈر کے اثاثہ جات کے انتظام کے ضوابط کے تحت عمل کرتے ہوئے، نیپال ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے کمپنی کے تمام اثاثوں بشمول اس کا ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر، ڈھانچے، سسٹمز اور نیٹ ورک کا کنٹرول حاصل کر لیا ۔ الزام ہے کہ انویسٹمنٹ میگا بینک نے اپنے بقایا قرضوں کی وصولی کے بہانے ا سمارٹ ٹیلی کام کے اثاثے کسی دوسری کمپنی کو فروخت کردیے۔
سی آئی بی (سینٹرل انویسٹی گیشن بیورو) کے مطابق، یہ کارروائیاں نیپال کی حکومت سے تعلق رکھنے والے اثاثوں کو دھوکہ دہی سے فروخت کرکے حکومت کی اتھارٹی کو کمزور کرنے کے مخصوص ارادے سے کی گئیں۔ اس معاملے میں قرض کی وصولی کمیٹی کے چیئرمین پانڈے بھی ملزم پائے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی