
علی گڑھ، 13 مئی (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی معین الدین احمد آرٹ گیلری میں قومی آرٹ نمائش ‘‘فریگمنٹس آف ایپی فینی’’ کا افتتاح عمل میں آیا، جس میں فنکاروں، اساتذہ، طلبہ اور فنونِ لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور عصری فن پاروں اور تخلیقی اظہار کوسراہا ۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے نمائش کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر سر جے جے اسکول آف آرٹ، آرکیٹیکچر اینڈ ڈیزائن، ممبئی کے وائس چانسلر پروفیسر ہِم کمار چٹرجی، سابق اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز، اسکول آف ویژول آرٹس دہلی کے ڈین پروفیسر راجن شری پد پھلاری، فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ٹی این ستیسن، دفتر رابطہ عامہ کی ممبر انچارج پروفیسر وبھا شرما، یونیورسٹی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ اور ڈپٹی پراکٹر پروفیسر عفت اصغر بھی موجود تھے۔
پروفیسر نعیمہ خاتون نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش فنکارانہ اشتراک، تخلیقی مکالمے اور شریک فنکاروں کو وسیع شناخت فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے اور ابھرتے ہوئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پروفیسر ہِم کمار چٹرجی نے کہا کہ آرٹ نمائشیں تجرباتی خیالات اور بامعنی بصری اظہار کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہیں، جبکہ پروفیسر راجن شری پد پھلاری نے کہا کہ آرٹ ایک ایسی تبدیلی لانے والی قوت ہے جو انسانوں میں ہمدردی اور نئے زاویہ فکر کو جنم دیتی ہے۔
نمائش میں واٹر کلر، ایکوا ٹنٹ، آئل، ایکرائلک، فوٹوگرافی، مجسمہ سازی اور انسٹالیشن آرٹ کے فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جبکہ متعدد انٹرایکٹیو اور تصوراتی تخلیقات بھی شائقین کی توجہ کا مرکز ہیں۔ نمائش میں ملک کے مختلف حصوں سے جو فنکار شریک ہیں ان میں شرابانی داس گپتا، اسون ساتھیان، سمیت شریواستو، ہرش موریہ، رجنی آریہ، محمد ریاض اور یش بھوپتے شامل ہیں۔
افتتاحی تقریب میں فیض اللہ احمد کی پرفارمنس آرٹ پیشکش توجہ کا مرکز رہی۔ نمائش کے دوران صوفی یزدانی اور آرین پرتاپ سنگھ کی پرفارمنس بھی شامل رہے گی ، جبکہ بیہان داس اور شمیم خان پر مشتمل ایک پینل مباحثہ بھی ہوگا۔ یہ نمائش گیلری کوآرڈینیٹر پروفیسر بدر جہاں کی نگرانی میں منعقد کی گئی ہے، جس میں پینٹنگ، فوٹوگرافی، مجسمے، انسٹالیشن آرٹ اور مکسڈ میڈیا تخلیقات کے ذریعے عصری آرٹ کے متنوع رجحانات کو پیش کیا گیا ہے۔ پروفیسر بدر جہاں نے کہا کہ یہ نمائش صرف فن پاروں تک محدود نہیں بلکہ اس کا ہدف آرٹ کے سلسلہ میں تبادلہ خیال، تخلیقی تحریک اور فنی ارتقا کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا بھی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ