وزیراعظم نے طاقت اور استطاعتکے درمیان توازن کی اہمیت پر زور دیا
نئی دہلی، 13 مئی (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ایک سنسکرت سبھاشتم کا اشتراک کیا اور طاقت اور استطاعت کے درمیان توازن کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے 1998 کے پوکھرن جوہری تجربات کو بھی ہندوستان کے غیر متزلزل عزم کی علامت قرار دیا۔ وزیر اعظم ن
MODI-SANSKRIT-SUBHASHITAM-POST


نئی دہلی، 13 مئی (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ایک سنسکرت سبھاشتم کا اشتراک کیا اور طاقت اور استطاعت کے درمیان توازن کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے 1998 کے پوکھرن جوہری تجربات کو بھی ہندوستان کے غیر متزلزل عزم کی علامت قرار دیا۔

وزیر اعظم نے ایکس پر لکھا کہ 11 مئی 1998 کو کیے گئے جوہری تجربات نے دنیا کے سامنے ہندوستان کی قوت ارادی کا مظاہرہ کیا۔ ٹیسٹ کے بعد پوری دنیا نے بھارت پر دباو¿ ڈالا لیکن بھارت نے ایسا کر دکھایا کہ کوئی طاقت اسے جھکا نہیں سکتی۔

وزیر اعظم نے پوسٹ میں سنسکرت سبھاشتم کو بھی شیئر کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ طاقت اور طاقت ور ایک دوسرے پر منحصر ہیں اور شیو کے بغیر شکتی اور شکتی کے بغیر شیو نامکمل ہے۔ وزیر اعظم نے لکھا: ایوم پرسپراپیکشا شکتی شکتی متو استھیتا۔ نا شیون ونا شکتیرن شکتیہ ونا شیوا۔

اس محاورے کا مطلب ہے کہ طاقت اور استطاعت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ جس طرح شیو کے بغیر شکتی ادھوری ہے،اور شکتی کے بغیر شیوادھورے ہیں، اسی طرح کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے طاقت اور اس کے صحیح استعمال کے درمیان توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande