
کم خرچ اور فوری انصاف پر عوام کا مثبت ردعملعثمان آباد ، 13 مئی (ہ س)۔ نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی نئی دہلی اور مہاراشٹر اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی ممبئی کی ہدایات کے مطابق ضلع میں قومی لوک عدالت کا انعقاد کیا گیا، جہاں ہزاروں مقدمات باہمی رضامندی اور مفاہمت کے ذریعے نمٹائے گئے۔ عثمان آباد ہیڈکوارٹر میں لوک عدالت کی کارروائی کا باضابطہ آغاز پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج و ضلع لیگل سروسز اتھارٹی کی چیئرپرسن ابھشری دیو کی موجودگی میں کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع جج ایس جی ٹھوبے، ضلع جج آر کے کھومنے، سکریٹری ضلع لیگل سروسز اتھارٹی بھاگیہ شری پاٹل سمیت دیگر جج صاحبان بھی موجود تھے۔ اس قومی لوک عدالت کے لیے مجموعی طور پر 9 پینل تشکیل دیے گئے تھے۔ضلع سطح کی اس لوک عدالت میں زیر التوا 7 ہزار 45 مقدمات اور دعویٰ دائر ہونے سے قبل کے 9 ہزار 309 معاملات سمیت ہزاروں کیس مفاہمت کے لیے رکھے گئے تھے۔ ان میں سے 291 زیر التوا مقدمات اور 2 ہزار 428 قبل از دعویٰ معاملات باہمی سمجھوتے کے بعد نمٹا دیے گئے۔ لوک عدالت کے دوران مختلف نوعیت کے مقدمات میں بڑی مالی وصولی بھی عمل میں آئی۔ چیک باؤنس معاملات میں مدعی فریق کو ایک کروڑ 19 لاکھ 49 ہزار 84 روپئے کی رقم ادا کی گئی۔اسی طرح موٹر حادثہ معاوضہ مقدمات میں ایک کروڑ 74 لاکھ 5 ہزار روپئے بطور معاوضہ منظور کیے گئے، جبکہ دیوانی نوعیت کے مقدمات میں ایک کروڑ 68 لاکھ 86 ہزار 526 روپئے مالیت کے معاملات طے کیے گئے۔ اس کے علاوہ بینکوں کے زیر التوا مقدمات میں 28 لاکھ 92 ہزار 767 روپئے اور قبل از دعویٰ بینک معاملات میں 47 لاکھ 24 ہزار 89 روپئے کی وصولی کی گئی۔میونسپل کونسل اور گرام پنچایت کے پانی و مکان ٹیکس معاملات میں 95 لاکھ 20 ہزار 792 روپئے وصول کیے گئے، جبکہ بجلی تقسیم کے معاملات میں 14 لاکھ 99 ہزار 235 روپئے کی وصولی عمل میں آئی۔ صارف عدالت کے معاملات میں 15 لاکھ روپئے مالیت کے تصفیے کیے گئے، جبکہ جرم قبول کرنے والے مقدمات میں 86 ہزار 500 روپئے بطور جرمانہ وصول کیے گئے۔منتظمین کے مطابق قومی لوک عدالت کے ذریعے عام شہریوں کو کم خرچ، آسان اور فوری انصاف فراہم کرنے میں بڑی مدد ملی ہے، جبکہ باہمی مفاہمت کے ذریعے تنازعات کے حل کے عمل کو عوام کی جانب سے زبردست ردعمل حاصل ہوا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے