رتناگیری میں 17 مئی کو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی امراض کا مفت طبی کیمپ
ناک کے ذریعے برین ٹیومر نکالنے کی جدید سرجری پر توجہرتناگیری، 13 مئی (ہ س)۔ تھانے کے سولاریس سپر اسپیشلیٹی اسپتال کی جانب سے جدید نیورو نیویگیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے اب تک 100 سے زائد برین ٹیومر مریضوں کا کامیاب علاج کیے جانے کے بعد اب رتناگیری
Health Brain Tumour Medical Camp


ناک کے ذریعے برین ٹیومر نکالنے کی جدید سرجری پر توجہرتناگیری، 13 مئی (ہ س)۔ تھانے کے سولاریس سپر اسپیشلیٹی اسپتال کی جانب سے جدید نیورو نیویگیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے اب تک 100 سے زائد برین ٹیومر مریضوں کا کامیاب علاج کیے جانے کے بعد اب رتناگیری میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی سے متعلق بیماریوں کے لیے ایک خصوصی مفت طبی کیمپ منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ طبی کیمپ 17 مئی 2026 بروز اتوار رتناگیری میونسپل کونسل کے تعاون سے آر بی شرکے ہائی اسکول میں صبح 10 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کے دوران دماغ اور ریڑھ کی ہڈی سے متعلق بیماریوں کی جانچ اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ رتناگیری کی میونسپل صدر شلپا سروے اور سولاریس اسپتال کے کنسلٹنٹ نیورو سرجن ڈاکٹر امیت ایولے نے پریس کانفرنس کے دوران زیادہ سے زیادہ مریضوں سے اس کیمپ سے استفادہ کرنے کی اپیل کی۔اس کیمپ کا انعقاد انسویا چیریٹیبل ٹرسٹ، روٹری کلب آف رتناگیری مڈ ٹاؤن اور روٹری کلب آف اربانیا تھانے کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل سردرد، نظر کم ہونا، چکر آنا، ورٹیگو، مرگی، ذہنی دباؤ، کمر اور گردن درد، نیوروپیتھی، حرکت اور توازن سے متعلق مسائل اور مایستھینیا گریوس جیسی علامات دماغ یا ریڑھ کی ہڈی کی بیماریوں کی نشاندہی ہو سکتی ہیں، اس لیے انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ منتظمین نے مریضوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے تمام میڈیکل رپورٹس ساتھ لے کر آئیں۔ رجسٹریشن کے لیے وویک مہاکال اور پروشوتم پوار سے رابطہ کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر امیت ایولے نے جدید نیورو نیویگیشن ٹیکنالوجی کے بارے میں تفصیل سے معلومات دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی دماغ کے لیے جی پی ایس کی طرح کام کرتی ہے اور حقیقی وقت کی امیجنگ کے ذریعے سرجن کو درست مقام تک رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کی مدد سے دماغ یا کھوپڑی کھولے بغیر انتہائی باریک اور محفوظ سرجری ممکن ہو سکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس طریقہ علاج میں ناک کے راستے ٹیومر نکالنے کی سرجری کی جاتی ہے، جس میں دماغ کو کھولنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہ کم چیرا والی جدید سرجری ہے، جس سے مریض کو کم تکلیف ہوتی ہے اور صحت یابی بھی تیزی سے ہوتی ہے۔ڈاکٹر امیت ایولے نے کہا کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسپائن سرجری بھی زیادہ محفوظ اور مؤثر انداز میں کی جا رہی ہے۔ اس میں پیچ، اسکریو اور دیگر آلات درست مقام پر نصب کرنے میں مدد ملتی ہے، جس سے پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پٹیوٹری ایڈینوما جیسی بیماریوں کے لیے بھی اینڈوسکوپک اینڈونیزل سرجری کی جا رہی ہے۔ یہ بیماری دماغ کی پٹیوٹری غدود سے متعلق ہوتی ہے اور دماغی رسولیوں میں تقریباً 10 سے 15 فیصد کیس اسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر دیپک ایولے اور ڈاکٹر امیت ایولے کی جانب سے قائم سولاریس سپر اسپیشالیٹی اسپتال نے گزشتہ ڈھائی برسوں میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے 100 سے زائد برین ٹیومر مریضوں کی جان بچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسپتال میں مہاراشٹر کے مختلف شہروں بشمول ناسک، ناندیڑ، دھولیہ، لاتور، شولاپور، کولہاپور اور رتناگیری سے مریض علاج کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande