
شملہ، 13 مئی (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجوں کے درمیان، ہماچل پردیش کے گورنر کویندر گپتا نے ایندھن بچانے کیلئے کئی بڑے فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔ گورنر نے اپنے سرکاری قافلے میں گاڑیوں کی تعداد نصف کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت تک سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کریں گے جب تک کہ مغربی ایشیا کا بحران حل نہیں ہو جاتا اور ایندھن کی بین الاقوامی قیمتیں مستحکم نہیں ہو جاتیں۔
گورنر نے بدھ کو لوک بھون میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ایندھن کی بچت اور خود انحصاری کے مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے لوک بھون میں ایندھن کی بچت کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لوک بھون کو فیول کنزرویشن زون قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر اتوار کو کوئی بھی سرکاری گاڑی وہاں پٹرول یا ڈیزل کا استعمال نہیں کرے گی۔ اتوار کو زیادہ تر سرکاری کام ویڈیو کانفرنسنگ یا محدود مشترکہ سفری انتظامات کے ذریعے کیے جائیں گے۔
گورنر نے کہا کہ غیر ضروری ملاقاتیں آن لائن کی جائیں گی تاکہ غیر ضروری سفر اور ایندھن کے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب قوم کو ایندھن کو محفوظ کرنے کی تلقین کی جارہی ہے، عوامی عہدوں پر کام کرنے والوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ اس کی روشنی میں انہوں نے اپنے سرکاری قافلے کو کم کرنے اور ہیلی کاپٹر کا استعمال بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گورنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ کارپولنگ کو اپنائیں، پبلک ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کریں، اور مختصر فاصلے کے لیے پیدل یا سائیکل چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن کی بچت نہ صرف ایک معاشی ضرورت ہے بلکہ قومی ذمہ داری بھی ہے۔
ریاستی یونیورسٹیوں کے چانسلر کے طور پر، گورنر نے تمام وائس چانسلروں کو کیمپس میں توانائی اور ایندھن کے تحفظ کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ طلباءاور نوجوانوں سے اس مہم میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش ہمیشہ قومی مفاد میں سب سے آگے رہا ہے اور اپنی ذمہ داری کو نبھاتا رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی