
۔نیٹ-یوجی پیپر لیک نیٹ ورک سے وابستہ ہونے کا شبہ
۔راجستھان ایس او جی نے آدھی رات کو چھاپہ مارا، طالب علم کو خرم پور گاو¿ں سے اٹھایا
گروگرام، 13 مئی (ہ س)۔ این ای ای ٹی-یوجی پیپر لیک معاملے میں، راجستھان کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی ) کی ایک ٹیم نے منگل کو آدھی رات کے قریب گروگرام کے فرخ نگر علاقے کے خرم پور گاو¿ں میں چھاپہ مارا اور ایم بی بی ایس کے طالب علم یش کو حراست میں لے لیا۔ ایس او جی کو شبہ ہے کہ یش پیپر لیک نیٹ ورک کا ایک فعال رکن ہوسکتا ہے اور اس نے مرکزی گینگ اور امیدواروں کے درمیان کلیدی لنک کے طور پر کام کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، ایس او جی ٹیم کو تکنیکی معلومات اور خفیہ اطلاع ملی، جس کی بنیاد پر انہوں نے گاو¿ں میں رات گئے کارروائی کی ۔ یش اس وقت اپنے گھر پر موجود تھا۔ ٹیم نے پہلے اس سے گھر میں پوچھ گچھ کی اور بعد میں اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اب راجستھان میں درج مقدمات کی بنیاد پر اس سے مکمل پوچھ گچھ کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ یش کو امتحان سے قبل سوالیہ پرچہ یا اس کے جوابات موصول ہوئے اور پھر اس نے انہیں نیٹ ورک کے دوسرے لنکس پر منتقل کردیا۔ ٹیم اب اس کے موبائل فون، کال ڈیٹیل ریکارڈ، بینک اکاو¿نٹس اور رابطوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ پیپر لیک سے متعلق مالی لین دین اور دیگر ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کیے جاسکیں۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق، نیٹ-یوجی امتحان کے پیپر کی فزیکل کاپی ناسک کے ایک پرنٹنگ پریس سے لیک ہوئی تھی۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کاپی کو گروگرام لایا گیا تھا، جہاں سے اسے مزید مختلف افراد میں تقسیم کیا گیا تھا۔ جانچ ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ کاغذ کے ڈپلیکیٹ سیٹ گروگرام اور آس پاس کے علاقوں میں بھی تیار کیے گئے تھے۔ ڈاکٹروں اور کوچنگ سنٹر کے آپریٹرز کا کردار بھی زیر تفتیش ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لیک ہونے والا پیپر گروگرام کے ڈاکٹر اخلاق احمد تک بھی پہنچا۔ تاہم تفتیشی ایجنسیاں ابھی تک اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ڈاکٹر اخلاق اس ریکیٹ میں براہ راست ملوث تھا یا نہیں۔
واضح رہے کہ 3 مئی کو دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے ایم بی بی ایس کے داخلوں میں دھوکہ دہی کے معاملے میں گروگرام سے متصل مہیپال پور علاقے سے ڈاکٹر اخلاق احمد سمیت تین لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ وہ جعلی دستاویزات بنانے اور ریکارڈ بنانے میں ماہر ہے ۔ نیٹ -یوجی پیپر لیک ہونے کے شبہ کے بعد، این ٹی اے نے 12 مئی کو ہونے والے امتحان کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ سی بی آئی اب پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ایجنسیاں اس نیٹ ورک کا انکشاف کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں جو ملک میں پھیلا ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد