مرکزی کابینہ سے ناگپور ایئرپورٹ کی جدیدکاری منصوبے کو منظوری
سالانہ 3 کروڑ مسافروں کی گنجائش والا نیا منصوبہ تیار ناگپور، 13 مئی (ہ س)۔ مرکزی کابینہ نے ناگپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی توسیع اور جدیدکاری منصوبے کو منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اب ایئرپورٹ کی ترقی اور آپریشن کی ذمہ داری آئندہ 30 برسوں کے لیے جی
Development Nagpur Airport Modernisation


سالانہ 3 کروڑ مسافروں کی گنجائش والا نیا منصوبہ تیار

ناگپور، 13 مئی (ہ س)۔ مرکزی کابینہ نے ناگپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی توسیع اور جدیدکاری منصوبے کو منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اب ایئرپورٹ کی ترقی اور آپریشن کی ذمہ داری آئندہ 30 برسوں کے لیے جی ایم آر گروپ کی ذیلی کمپنی جی ایم آر ناگپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ (جی این آئی اے ایل) کو سونپنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ بدھ کو منعقدہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں حکومت نے ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) کی اُس زمین کی لیز مدت میں توسیع کی منظوری دی، جو پہلے میہان انڈیا لمیٹڈ (ایم آئی ایل) کو دی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت ناگپور ایئرپورٹ کو عالمی معیار کی سہولیات سے آراستہ کرنے کا عمل تیز ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔جی ایم آر کے حکام کے مطابق منصوبے کے تحت ناگپور ایئرپورٹ کو مرحلہ وار وسعت دی جائے گی اور مستقبل میں اسے وسطی ہندوستان کے ایک بڑے ہوابازی اور کارگو مرکز کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ایئرپورٹ کی سالانہ مسافر گنجائش 3 کروڑ تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔فی الحال موجودہ ٹرمینل کی گنجائش تقریباً 20 لاکھ مسافر سالانہ ہے، تاہم نئے منصوبے کے تحت جدید سہولیات سے لیس ایک نیا ٹرمینل تعمیر کیا جائے گا، جس کے پہلے مرحلے میں سالانہ 40 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت ہوگی۔منصوبے کے تحت ایک نیا 4000 میٹر طویل رن وے بھی تعمیر کیا جائے گا، جبکہ موجودہ 3200 میٹر رن وے کو بڑھا کر 3600 میٹر تک کیا جائے گا۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس توسیع سے نہ صرف مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی پروازوں کے آپریشن میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ناگپور ایئرپورٹ کی ترقی کا منصوبہ پہلی بار سال 2009 میں سامنے آیا تھا، جب ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا اور مہاراشٹر ایئرپورٹ ڈیولپمنٹ کمپنی (ایم اے ڈی سی) نے مل کر میہان انڈیا لمیٹڈ تشکیل دی تھی۔ اس مشترکہ منصوبے میں اے اے آئی کی 49 فیصد جبکہ ایم اے ڈی سی کی 51 فیصد شراکت داری رکھی گئی تھی۔اگرچہ اسی سال ایئرپورٹ کی جائیدادیں ایم آئی ایل کو منتقل کر دی گئی تھیں، لیکن زمین کی حد بندی سے متعلق تنازعات کی وجہ سے لیز معاہدے میں تاخیر ہوئی۔ بعد میں اے اے آئی کی زمین 6 اگست 2039 تک ایم آئی ایل کو لیز پر دی گئی۔سال 2016 میں ایم آئی ایل نے پی پی پی ماڈل کے تحت ایئرپورٹ آپریشن کے لیے عالمی سطح پر ٹینڈر جاری کیا تھا، جس میں جی ایم آر ایئرپورٹس لمیٹڈ سب سے بڑی بولی دہندہ بن کر سامنے آئی۔ بعد ازاں ٹینڈر منسوخ ہونے پر جی ایم آر نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جہاں بعد میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں نے کمپنی کے حق میں فیصلہ سنایا۔ اس کے بعد 8 اکتوبر 2024 کو ایم آئی ایل اور جی ایم آر کے درمیان رعایتی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔میہان پروجیکٹ کے تحت ناگپور کو ملک کے ایک بڑے ایئر کارگو ہب کے طور پر بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ توسیعی منصوبے کے بعد ایئرپورٹ کی کارگو ہینڈلنگ صلاحیت سالانہ 9 لاکھ ٹن تک پہنچنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جس سے زرعی مصنوعات، فارما اور مینوفیکچرنگ شعبوں کو خاطر خواہ فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔فی الحال ناگپور سے ممبئی، دہلی، پونے سمیت چند گھریلو شہروں اور قطر و شارجہ کے لیے براہِ راست پروازیں چلائی جا رہی ہیں، تاہم توسیعی منصوبہ مکمل ہونے کے بعد قومی اور بین الاقوامی پروازوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کی انتظامی صلاحیت اور سرکاری نگرانی کے امتزاج سے ناگپور ایئرپورٹ کو جدید سہولیات، بہتر رابطہ نظام اور مضبوط کارگو نیٹ ورک کے ساتھ ملک کے اہم ہوابازی مراکز میں شامل کیا جا سکے گا۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande