شعبہ اردو میں اردو افسانوں کے ملیالم ترجمہ اردوکتھاکل کا اجراء
علی گڑھ, 13 مئی (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اردوکے منتخب بیس افسانوں کے ملیالم ترجمے ‘‘اردو کتھا کل’’ کا اجراء کیا گیا، جس میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ٹی این ستیسن کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ پروفیسر قمر الہدی فریدی،پروفیسر ع
کتاب کا اجرا


علی گڑھ, 13 مئی (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اردوکے منتخب بیس افسانوں کے ملیالم ترجمے ‘‘اردو کتھا کل’’ کا اجراء کیا گیا، جس میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ٹی این ستیسن کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ پروفیسر قمر الہدی فریدی،پروفیسر عبد المنان صدیقی، پروفیسر وبھا شرما،پروفیسر سید سراج الدین اجملی، پروفیسر ٹی این ستیسن، پروفیسر آفتاب احمد آفاقی، پروفیسر طارق چھتاری کے ہاتھوں اجرا عمل میں آیا۔

پروفیسر سید سراج الدین اجملی نے مترجم پروفیسر ٹی این ستیسن کا تعارف کرائے ہوئے کہاکہ پروفیسر ستیسن ایک زمینی انسان ہیں جو اپنے ماتحتوں کا بھرپور خیال رکھتے ہیں ۔

صدر شعبہ اردو پروفیسر قمرالہدی فریدی نے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے مصنف اور کتاب کا تعارف پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں سعادت حسن منٹو،کرشن چندر ،راجندر سنگھ بیدی،عصمت چغتائی،قرۃ العین حیدر،سریندر پرکاش،خواجہ احمد عباس،رام لعل ،بلراج کومل،جیلانی بانو،سلام بن رزاق،ذکیہ مشہدی،سید محمد اشرف ،طارق چھتای اور خالد جاوید وغیرہ کی کہانیاں شامل ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ پروفیسر ٹی این ستیسن کا اپنا ایک علمی وقار ہے۔ انہوں نے اردو کے اہم اور منتخب افسانوں کا ملیالم میں ترجمہ کیا ہے۔ ترجمے زبانوں اور تہذیبوں کو جوڑتے ہیں۔ ادب ماضی میں جھانکنے کی ایک کھڑکی ہے جبکہ ترجمہ دوسری تہذیبوں اور زبانوں کو جاننے کا ایک وسیلہ ہے۔

پروفیسر طارق چھتاری نے اردو کتھا کل کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ستیسن نے ایک ایسی زبان میں ترجمہ کیاہے جس میں عام طور پر اہل اردو ترجمہ نہیں کرپاتے جس کے لیے وہ قابل مبارکباد ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترجمہ کسی قوم کی داخلی کیفیات تک سے قاری کو واقف کراتا ہے، چونکہ پروفیسر ستیسن نے صرف ترجمہ زبان دانی سے نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے اردو تہذیب کو جیا ہے اور اس میں رچے بسے ہیں اس لیے ان کا یہ ترجمہ مزید اہمیت کا حامل ہوجاتاہے۔

پروفیسر وبھا شرما نے کتاب کے اجراء پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ اردو بھی مبارکباد کا مستحق ہے کہ اس نے اس کتاب کے ترجمے کا اجراء کیا۔

صدر شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے پروفیسر ٹی این ستیسن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس ترجمے نے دو تہذیبوں کو جوڑنے کا کام کیاہے۔اردو زبان کے افسانوں کے ملیالم میں ترجمہ کے لیے ہم اہل اردو ان کے مشکور ہیں کیونکہ انہوں نے اردو کے سفیر کا کردار ادا کیا ہے۔

پروفیسر عبد المنان صدیقی نے کہا کہ پروفیسر ٹی این ستیسن سے شروع سے ہی تعلق خاطر رہا ہے، ان کی وجہ سے ہم نے ملیالم کے چند جملے بھی سیکھے، ان جملوں نے ہم دونوں کو بہت قریب کردیا۔

ڈین فیکلٹی آف آرٹس اور اردو کتھا کل کے مترجم پروفیسر ٹی این ستیسن نے کہا کہ میں نے اردو کی کہانیوں کا انتخاب اپنی صواب دید پر کیاہے ،جس میں کوشش کی ہے کہ اردو کہ ایسی اچھی کہانیاں شامل کروں جو اردو اور اس کی تہذیب کی نمائندہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کا زیادہ حصہ ہم نے علی گڑھ یعنی اردوتہذیب کے درمیان گزارا ہے جس کی وجہ سے مجھے اس زبان اور تہذیب محبت ہوگئی، جس کا اظہار یہ مترجمہ کتاب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کتاب میں بیس کہانیوں کا ترجمہ شامل ہے۔

پروگرام میں شعبہ اردو کے ساتھ ہی دوسرے شعبوں کے اساتذہ اور طلبہ کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande