
حیدرآباد ، 13 مئی (ہ س)۔ وزیراعلی ریونت ریڈی نے ریاست میں تعلیمی شعبہ کو مستحکم بنانے کے لئے جامع حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ اِس منصوبہ کے تحت نئی تعلیمی پالیسی، ہر سال تعلیمی بجٹ میں اضافہ، سرکاری اسکولوں میں نرسری تا بارہویں جماعت تک تعلیم اور تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ کے لئے ناشتہ کی فراہمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ پرجا پالنا پرگتی پرانالیکا پروگرام کے تحت وزیراعلی نے لال بہادراسٹیڈیم میں ہفتہ تعلیم کا آغاز کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت نے ریاستی بجٹ کا 8 فیصد تعلیم کے لئے مختص کیا ہے۔ آنے والے برسوں میں اِسے مرحلہ وار 15 فیصد تک بڑھایاجائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ تعلیم پر ہونے والا خرچ مستقبل کی نسلوں کےلئے ایک مثبت سرمایہ کاری ہے۔حکومت کا مقصد تلنگانہ کوتعلیم کے شعبہ میں ملک کی نمبر1 ریاست بنانا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ سرکاری اسکولوں کومزید مضبوط بناکرخانگی تعلیمی اداروں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔ ریاست کے 27 ہزار سرکاری اسکولوں میں 19 لاکھ طلبہ زیرتعلیم ہیں جبکہ 12 ہزار خانگی اسکولوں میں طلبہ کی تعداد 38 لاکھ ہے۔ وزیراعلی نے کہاکہ حکومت جلد ہی نئی تعلیمی پالیسی متعارف کرے گی جو ملک کےلئے مثالی ثابت ہوگی۔ دسویں جماعت کے بعد بڑھتے ہوئے ڈراپ آؤٹس کو روکنے کے لئے جاریہ تعلیمی سال سے سرکاری اسکولوں میں نرسری تا بارہویں جماعت تک تعلیم فراہم کی جائے گی۔ غریب خاندانوں کے طلبہ کے لئے تغذیہ بخش خوراک ناشتہ میں فراہم کی جائے گی جو دودھ اور راگی پر مشتمل رہے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ ناشتہ کی اسکیم پائلیٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع ہوچکی ہے۔ وزیراعلی نے محکمہ تعلیم کے لئے مستقل وزیرنہ ہونے پر اپوزیشن کی تنقیدوں کو مسترد کردیا اور کہاکہ جان بوجھ کر محکمہ تعلیم کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہوں تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کی جاسکے اور اُنھیں ذمہ دارشہری بنایا جائے۔ وزیراعلی نے بتایا کہ حکومت نے محض 60 دنوں میں 11 ہزار ٹیچرس کی تقرری کئے ہیں۔ 22 ہزار ٹیچرس کو ترقی دی گئی اور 36 ہزار ٹیچرس کے شفافیت کے ساتھ تبادلے کئے گئے۔ ریاست میں جملہ دیڑھ لاکھ ٹیچرس خدمات انجام دے رہے ہیں اور ہر 17 طلبہ کے لئے ایک ٹیچر موجود ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ 25 سرکاری ٹیچرس کو مطالعاتی دورہ پر روانہ کیا گیا ہے اور مستقبل میں بہترین کارکردگی رکھنے والے 500 ٹیچرس کو بیرون ملک بھیجا جائے گا۔۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق