
نئی دہلی، 13 مئی (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے سرفیس کول لگنائٹ/ گیسیفیکیشن پروجیکٹوں کو فروغ دینے کے لیے 37,500 کروڑ روپے کی اسکیم کو منظوری دی ہے۔ یہ اسکیم ملک میں سرفیس کوللگنائٹ کو گیس میں تبدیل کرنے کے عمل کو تیز کرے گی۔ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک 100 ملین ٹن کوئلے کو گیس بنا کر توانائی پیدا کی جائے۔
مرکزی وزیر اشونی وشنو نے نیشنل میڈیا سنٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس فیصلے کو ایک اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے پاس تقریباً 200 سال کے کوئلے کے ذخائر ہیں، جنہیں اب گیس بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس منصوبے سے تقریباً 3 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی امید ہے۔ گیسیفیکیشن سے ملک کی توانائی پر انحصار کم ہو جائے گا اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، یوریا، امونیا اور میتھانول جیسی مصنوعات کی درآمدات پر انحصار کم ہو جائے گا۔
غور طلب ہے کہ ہندوستان کے پاس دنیا کے سب سے بڑے کوئلے کے ذخائر میں سے ایک ہے، جس میں تقریباً 401 ارب ٹن کوئلہ اور 47 ارب ٹن لگنائٹ ہے۔ کوئلہ ملک کی توانائی کی کھپت کا 55 فیصد سے زیادہ پورا کرتا ہے۔ گیسیفیکیشن کوئلے اور لگنائٹ کو سنتھیسس گیس (سنگیس) میں تبدیل کرتی ہے، جو ایندھن اور کیمیکل بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس سے ہندوستان کو ایل این جی، یوریا، امونیم نائٹریٹ، امونیا، کوکنگ کول اور میتھانول جیسی مصنوعات کی درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
مرکزی کوئلہ وزارت نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت نئے سرفیسلگنائٹ/گیسیفیکیشن پلانٹس کو ترغیب دی جائے گی۔ پلانٹ اور مشینری کی لاگت کا 20 فیصد تک مالی مراعات فراہم کی جائیں گی۔ پروجیکٹوں کا انتخاب شفاف اور مسابقتی بولی کے عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔ کسی ایک پروجیکٹ کو زیادہ سے زیادہ 5,000 کروڑ روپے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔ ایک پروڈکٹ کے لیے زیادہ سے زیادہ حد 9,000 کروڑ ہے، اور ایک کمپنی گروپ کے لیے 12,000 کروڑ ہے۔
وزارت نے کہا کہ حکومت نے سرمایہ کاروں کو کوئلے سے منسلک طویل مدتی پالیسی کی یقین دہانی کی مدت کو 30 سال تک بڑھا دیا ہے۔ اس اسکیم سے ملک بھر میں تقریباً 25 منصوبوں کے ذریعے 50,000 سے زائد براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہونے کی امید ہے۔ اس سے سالانہ تقریباً 6,300 کروڑ روپے کی آمدنی بھی ہوگی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی