
بالاگھاٹ، 13 مئی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے ضلع بالاگھاٹ میں کٹنگی تھانہ علاقے کے موضع جراموہ گاوں میں بدھ کو ایک شخص اور اس کے دو بچوں کی لاشیں کنویں میں تیرتی ہوئی ملیں۔ دونوں بچوں کی لاشیں باپ کی باڈی سے گمچھے میں بندھی ہوئی تھیں۔ پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق، متوفی کی شناخت جراموہ گاوں کے ساکن شیام ناگیندر ولد بھاگوت اور اس کے دونوں بچوں- بیٹا ونش (5 سال) اور بیٹی بھوری (3 سال) کے طور پر ہوئی ہے۔ متوفی شیام ایل آئی سی ایجنٹ تھا۔ کنویں میں کودنے سے پہلے اس نے سوشل میڈیا (واٹس ایپ) پر ایک اسٹیٹس لگایا تھا- ’’نہیں ہے زندہ رہنے کی آرزو، نہیں چاہیے کوئی وعدہ یا رشتہ‘‘۔
پولیس کے مطابق، شیام ناگیندر منگل کی رات تقریباً 8.30 سے 9 بجے کے درمیان اپنے دونوں بچوں کے ساتھ گھر سے نکلا تھا۔ جب وہ کافی دیر تک گھر نہیں لوٹا، تو اہل خانہ نے تشویش کا اظہار کیا۔ گاوں میں دو شادیاں ہونے کی وجہ سے پہلے انہیں لگا کہ شیام بچوں کو لے کر شادی میں گیا ہوگا، لیکن دیر رات وہ گھر نہیں پہنچا تو اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کی۔ گاوں میں پٹ میدان کے پاس اس کی بائیک کھڑی ملی، جس سے انہونی کا خدشہ ہوا۔ اہل خانہ نے اس کی اطلاع پولیس کو دی، جس کے بعد پولیس نے بھی تلاش شروع کی۔ کچھ فاصلے پر بغیر مینڈیر کے ایک کنویں کے پاس شیام کی چپلیں ملیں۔ بدھ کی صبح اسی کنویں میں تینوں کی لاشیں نظر آئیں۔
اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی۔ پولیس نے گاوں والوں کی مدد سے کھاٹ کے سہارے شیام اور اس کے بچوں ونش اور بھوری کی لاشوں کو کنویں سے باہر نکالا۔ پولیس نے تینوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ پولیس تینوں کی موت کی ہر زاویے سے جانچ کرنے کی بات کہہ رہی ہے۔
علاقے کے ایس ڈی او پی وکاس سنگھ نے بتایا کہ کنویں سے باپ اور اس کے دو بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ مرگ قائم کر کے معاملے کو جانچ میں لیا گیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے اور تحقیقات کے بعد ہی موت کی وجہ واضح ہو پائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن