نیٹ امتحان منسوخ ہونے پر کانگریس نے این ٹی اے پرسوال اٹھایا
نئی دہلی، 12 مئی (ہ س): کانگریس پارٹی نے نیٹ-یو جی 2026 امتحان منسوخ ہونے کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے وجود اور اس کے نظام پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ پارٹی کے جنرل سیکرٹری، جئے رام رمیش کہا کہ پرچہ لیک ہونا اور امتحان کا منسوخ ہونا این ٹی ا
نیٹ امتحان منسوخ ہونے پر کانگریس نے این ٹی اے  پرسوال اٹھایا


نئی دہلی، 12 مئی (ہ س): کانگریس پارٹی نے نیٹ-یو جی 2026 امتحان منسوخ ہونے کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے وجود اور اس کے نظام پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ پارٹی کے جنرل سیکرٹری، جئے رام رمیش کہا کہ پرچہ لیک ہونا اور امتحان کا منسوخ ہونا این ٹی اے کی ناکامی کی تازہ مثال ہے، جس نے اس ادارے کے مقصد اور کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

جئے رام رمیش نے اپنے ایکس پیغام میں لکھا کہ تعلیم، خواتین، بچوں، نوجوانوں اور کھیلوں سے متعلق پارلیمانی مستقل کمیٹی نے اپنی 371 ویں رپورٹ میں بتایا تھا کہ صرف 2024 میں این ٹی اے کے ذریعے منعقدہ 14 قومی امتحانات میں سے 5 میں پرچہ لیک ہونے اور بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آئے۔

جے ای ای مینز 2025 میں جوابی کلید میں غلطیوں کے باعث 12 سوالات واپس لینے پڑے، جبکہ سی یو ای ٹی میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے یونیورسٹیوں کا تعلیمی کیلنڈر متاثر ہوا اور طلبہ کو نجی جامعات کی طرف جانا پڑا۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ این ٹی اے مسلسل پارلیمنٹ کو اپنی سالانہ رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہی ہے اور صرف آڈٹ شدہ مالی گوشوارے ہی فراہم کرتی رہی ہے۔ حکومت نے پرانے داخلہ نظام کو ختم کر کے ایک مرکزی نظام نافذ کیا جو بدعنوانی سے متاثر بتایا جاتا ہے اور اس میں پارلیمنٹ کے سامنے مکمل جوابدہی موجود نہیں۔

جئے رام رمیش نے کہا کہ 16 جون 2024 کو وزیرِ تعلیم نے خود تسلیم کیا تھا کہ این ٹی اے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ دو سال گزرنے کے باوجود اس اعتراف کے بعد کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ اب یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ صرف اصلاحات کافی نہیں بلکہ این ٹی اے اور اس سے جڑے پورے نظام کی بنیادی سطح پر ازسرِنو تشکیل ضروری ہے، تاکہ اسے حکومت کے مبینہ بدعنوان عناصر کے اثر و رسوخ سے آزاد کیا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande