
تہران، 09 اپریل (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے امریکہ کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امریکہ کو اب جنگ بندی اور جنگ میں سے کسی ایک متبادل کو منتخب کرنا ہوگا۔
عراقچی نے کہا کہ موجودہ حالات میں دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ ان کے مطابق، اگر امریکہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے، تو اسے مکمل طور پر نافذ کرنا ہوگا۔ وہیں، اگر اسرائیل کے ذریعے فوجی کارروائی جاری رہتی ہے، تو اسے جنگ بندی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے لبنان میں جاری تشدد کا ذکر کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ عراقچی نے کہا کہ پوری دنیا اس صورتحال کو دیکھ رہی ہے اور اب فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے۔ ان کے مطابق، یہ وہ وقت ہے جب امریکہ کو اپنے وعدوں پر پورا اترنا ہوگا اور واضح موقف اختیار کرنا ہوگا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں حالات انتہائی نازک بنے ہوئے ہیں۔ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان اعلانیہ جنگ بندی ہے، دوسری طرف لبنان اور آس پاس کے علاقوں میں حملے جاری ہیں۔ اس سے امن کے عمل پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مانا جا رہا ہے کہ ایران کا یہ بیان امریکہ پر دباو ڈالنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ پیغام دینے کی بھی کوشش ہے کہ اگر خطے میں تشدد نہ رکا، تو ایران بھی سخت اقدامات اٹھانے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
فی الحال، بین الاقوامی سطح پر سب کی نظریں امریکہ کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ واشنگٹن اس وارننگ کے بعد کیا موقف اختیار کرتا ہے اور کیا اس سے خطے میں امن بحال ہو پائے گا یا نہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن