مصنوعی ذہانت کی آئندہ جدّتوں کی بنیاد رکھنا
۔ مصنوعی ذہانت کی جدید ترین تحقیق میں امریکہ کی برتری اور ہندوستان کی وسیع مہارت کے امتزاج سے عالمی مسائل کے حل کے نمایاں مواقع پیدا ہوتے ہیں از: گریراج اگروال، اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ نئی دہلی فروری 2026 میں امریکہ اور ہندوستان کے محققی
مصنوعی ذہانت۔ فائل فوٹو


۔ مصنوعی ذہانت کی جدید ترین تحقیق میں امریکہ کی برتری اور ہندوستان کی وسیع مہارت کے امتزاج سے عالمی مسائل کے حل کے نمایاں مواقع پیدا ہوتے ہیں

از: گریراج اگروال، اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ نئی دہلی

فروری 2026 میں امریکہ اور ہندوستان کے محققین اور پیشہ ور افراد موہالی میں ایک ورکشاپ کے لیے جمع ہوئے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت میں باہمی تحقیقی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ اس کا انعقاد پلاکشا یونیورسٹی نے نئی دہلی میں واقع امریکی سفارت خانے کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس کا مقصد واضح تھا: بات چیت سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کے میدان میں تحقیق کے شعبے میں مضبوط اور مستقل شراکت داری قائم کرنا۔

ورکشاپ میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ ان شعبوں کی نشاندہی بھی کی گئی جہاں مزید کام کی ضرورت ہے۔ امریکہ جہاں جدید اے آئی تحقیق میں آگے ہے، وہیں ہندوستان ایک بڑی اور ماہر افرادی قوت کے ساتھ ساتھ عملی اطلاق کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ ماہرین نے شعبے میں سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی ترجیحات کو بہتر طور پر ہم آہنگ کرکے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی وکالت کی۔ اس سے محققین کے ساتھ مزید گہرے مباحث کی راہ ہموار ہوئی جو امریکہ۔ ہند اے آئی اقدامات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

تعاون کی موجودہ صورت حال

کیلیفورنیا یونیورسٹی کے سان ڈیاگو میں واقع اسکول آف کمپیوٹنگ ، انفارمیشن اینڈ ڈیٹا سائنس کے ممتاز پروفیسر اور ڈین راجیش گپتا کہتے ہیں” حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکہ۔ہند تعاون بہت زیادہ ہورہا ہے۔ مجھے اس کا اندازہ اس لیے بھی ہے کیوں کہ میں ہندوستان میں مصنوعی ذہانت کے چھ اسکولوں کے قیام میں شامل ہوں جنہیں امریکی فاؤنڈیشنوں کی حمایت حاصل ہے۔“

اس پس منظر میں یونیورسٹی آف میری لینڈ کے شعبہ الیکٹریکل اینڈ کمپیوٹر انجینئرنگ کے پروفیسر راجیو بروا کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اب زیادہ حکمت عملی پر مبنی ہے اور ادارہ جاتی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ وہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں ”دونوں ملکوں کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ ایک طرف امریکہ میں جدید تحقیق اور عالمی مصنوعات کا مضبوط نظام ہے تو دوسری جانب ہندوستان بڑے پیمانے پر بہترین صلاحیتوں اور عملی اطلاق کے متنوع مواقع فراہم کرتا ہے۔“

بروا نے ورکشاپ کے تین اہم نکات شمار کروائے : اداروں کے درمیان تعاون کو ممکن بنانے کے لیے مشترکہ تحقیقی ڈھانچہ قائم کرنا، تعلیم کو قوتِ افزائش کے طور پر استعمال کرنا اور مصنوعی ذہانت کے اصولوں (جیسے حفاظت، سلامتی اور مضبوطی) کو بعد میں شامل کرنے کی بجائے ابتداء ہی سے شامل کرنا۔

تعلیمی روابط کی تعمیر

تعلیم اور صلاحیتوں کی ترقی طویل مدتی تعاون کی بنیاد بنی رہتی ہیں۔ گپتا تاریخی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے آئی آئی ٹی کانپور کی مثال دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ” امریکی حکومت نے آٹھ امریکی جامعات کو آپس میں مربوط کرکے آئی آئی ٹی کانپور کے قیام میں مدد دی۔ ممکن ہے ان تعلیمی اداروں کو یہ معلوم بھی نہ ہو کہ کانپور کہاں ہے مگر انہوں نے یہ روابط قائم کیے۔ “

آج ہندوستان کے ابھرتے ہوئے مصنوعی ذہانت والے ادارے بھی اس طرح کے تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ گپتا باخبر کرتے ہیں” ہندوستان کے کئی ادارے جیسے آئی آئی ٹی پلکّڈ، آئی آئی ٹی روپڑ اور آئی آئی ٹی گوہاٹی اب مصنوعی ذہانت پر مرکوز ادارے قائم کرچکے ہیں۔ ان اداروں کو امریکی شراکت داروں سے وابستہ کرنا تعاون کو تیز کرسکتا ہے۔“ وہ مزید بتاتے ہیں کہ تعاون اکثر جڑوں سے شروع ہوتا ہے۔ وہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں” لوگ سمجھتے ہیں کہ تعاون کا مطلب بڑا بجٹ یا اعلیٰ سطح کا معاہدہ ہے مگر حقیقت میں یہ زمین سے شروع ہوتا ہے۔ اگر ہائی اسکول اور انڈر گریجویٹ طلبہ یہ نئے مضامین سیکھنا شروع کردیں تو وہ مستقبل کی مہارتوں کے وسائل بن سکتے ہیں، ٹھیک اسی طرح جس طرح آئی آئی ٹیز نے کیا۔“

بروا صلاحیتوں کی فراہمی اور تعاون کو مضبوط کرنے کے عملی طریقوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں” دو طرفہ پروگرام جو بین الاقوامی ٹیموں کی حمایت کرتے ہیں اور عملی نتائج پر توجہ دیتے ہیں ،خاص طور پر مو?ثر ہیں۔ کامیاب تعاون کی تین خصوصیات ہیں: واضح اہداف، مشترکہ مواد جیسے کوڈ، ڈیٹا یا بینچ مارک اور لوگوں کے درمیان مستقل رابطےجو مشترکہ راہنمائی ، دوروں اور بار بار ہونے والی ورک شاپوں کے ذریعے قائم رہتے ہیں۔“

کامیاب شراکت داریوں میں امریکی فکری آزادی کی ثقافت کا بھی اہم کردار ہوتا ہے، جہاں لوگ اپنی عمر یا تعلیمی قابلیت سے قطع نظر نئے چیلنج قبول کر سکتے ہیں، اور اس سے بین الاقوامی سطح پر جدت کو فروغ ملتا ہے۔

مشترکہ تحقیقی ڈھانچہ

دونوں ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گفتگو سے آگے بڑھ کر مشترکہ تحقیقی پلیٹ فار موں کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ بروا اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں” مشترکہ مسئلے، بینچ مارک ڈیٹا سیٹس، اور قابلِ جانچ ٹیسٹ بیڈ کے ذریعے تعاون کے ڈھانچے بنائیں تاکہ نتائج اداروں کے درمیان منتقل ہوں۔“اثر ات میں اضافہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب قومی ادارے صحت، زراعت، اور سائبر سکوریٹی جیسے شعبوں میں چیلنج کی بنا پر ایجنڈے مرتب کیے جاتے ہیں تاکہ تحقیق طبقات کے لیے قابل پیمائش فوائد پیدا کرے اور معیشت اور پیداوارمیں اضافے کا سبب بنے۔ وہ کہتے ہیں ” تجربہ گاہ سے شہری فائدے تک کا راستہ کاروباری اقدامات کے بغیر مکمل نہیں ہوتا : زیادہ مشترکہ پائلٹس ، جدت کے تجرباتی میدان اور کمپنیوں کے لیے تحقیق کے نتائج کو مل کر تیار کرنے اور اختیار کرنے کی ترغیبات۔“صنعت کی فعال شرکت حقیقت پسندی بڑھاتی ہے، کیونکہ یہ ڈیٹا، پابندیاں اور نفاذ کے فیڈبیک فراہم کرتی ہے، جس سے نتائج صرف مقالے نہیں بلکہ حقیقی مصنوعات اور خدمات تشکیل پاتے ہیں۔

اثر اور امکانات

مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہو جاتا ہے کہ معاشرہ خود مختار نظاموں پر کس طرح گرفت رکھے۔ گپتا بتاتے ہیں کہ

روایتی مشینیں انسانی ہدایات پر چلتی ہیں، لیکن اے آئی نظام زیادہ تر خود مختار فیصلے کرتے ہیں، اس لیے حکمرانی کے ڈھانچے ضروری ہیں۔

وہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں ” چونکہ مشینیں سماجی اصولوں کی پیروی نہیں کرتیں بلکہ صرف طبیعی قوانین کی پابند ہوتی ہیں، اس لیے ہمیں حکمرانی کے ایسے نظام بنانے ہوں گے جو مصنوعی ذہانت کی راہنمائی کرسکیں۔ “

گپتا کہتے ہیں کہ وہ مہارتیں جو انسانی تجربے سے پیدا ہوتی ہیں، مثلاً بات چیت، جذباتی ذہانت، تخلیقی صلاحیت اور ہنرمندی، وہ ہمیشہ قیمتی رہیں گی۔

کچھ صنعتی یا پیشہ ورانہ ہنر، جیسے پلمبر کا کام، بڑھئی کا کام اور جسمانی ہنر بھی اہمیت حاصل کرسکتے ہیں کیوں کہ یہ صلاحیتیں پیچیدہ ہیں جنہیں مشینیں ابھی مکمل طور پر دہرا نہیں سکتیں۔

عام خیال کے برخلاف مصنوعی ذہانت ملازمتوں کی جگہ لینے کی بجائے پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کا ذریعہ بنے گی۔ گپتا بتاتے ہیں ” مصنوعی ذہانت سافٹ ویئر انجینئر کی کارکردگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ انہیں تبدیل کرنے کی بجائے کئی افراد کے کام کرنے اور بالکل نئی مصنوعات اور خدمات تخلیق کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔ “

وہ کہتے ہیں کہ اگلی جدت کی لہر انتہائی شخصی مصنوعات پر مبنی ہوگی، جو صحت سے لے کر ڈیجیٹل خدمات تک کے شعبوں کو شامل کرے گی۔

آئندہ دہائی میں قیادت کے لیے بروا تین چیزوں کی نشاندہی کرتے ہیں : مشترکہ تحقیقی بنیادی ڈھانچہ، قابل اعتماد مصنوعی ذہانت کے لیے مشترکہ معیار اور مضبوط مہارت والے وسائل۔ جب کہ گپتا کہتے ہیں ” موجودہ مصنوعی ذہانت کی پختگی ابھی صرف دس میں سے تیسرے یا چوتھے نمبر پر ہے مگر اس کے اندر امکانات بہت زیادہ ہیں۔ یوں کہیں کہ مستقبل روشن ہے۔ سوچ سمجھ کر بنائی گئی پالیسی اور تعاون کے شانہ بہ شانہ آنے والے ماہ و سال میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ “

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande