
واشنگٹن،08اپریل(ہ س)۔ ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے باعث امریکہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت تیز ہوگئی ہے، اوران کو ان کے عہدے سے معزول کرنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘نے رپورٹ دی ہے ۔امریکی کانگریس کے 24 سے زائد ڈیموکریٹ ارکان نے امریکی صدر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔نیوز ویب سائٹ ’ایکسیس‘ کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر یہ تحریر کیے جانے کے بعد کہ’آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی اور اسے کبھی بحال نہیں کیا جا سکے گا‘۔ انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے آئین کی 25 ویں ترمیم کو فعال کرنے کے مطالبات میں شدت آگئی ہے۔ صدر نے یہ بیان ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل جاری کیا تھا۔
کانگریس میں مواخذے کی روایتی کارروائی کے علاوہ صدر کو ہٹانے کا ایک تیز تر راستہ 25 ویں آئینی ترمیم ہے۔ اس ترمیم کی چوتھی شق کے مطابق صدر کو اس صورت میں عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے جب یہ سمجھا جائے کہ وہ ’اپنے عہدے کے اختیارات اور فرائض انجام دینے کے قابل نہیں رہے‘۔تاہم اس شق پر پہلے کبھی عمل درآمد نہیں کیا گیا اور موجودہ حالات میں بھی اس کا اطلاق مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ اس کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور کابینہ کے ارکان کی اکثریت کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے صدور کو اس حوالے سے تحریری اعلامیہ پیش کرنا ہوگا۔
بہ طور صدر ٹرمپ اس پر اعتراض کر سکتے ہیں، لیکن نظریاتی طور پر نائب صدر اور کابینہ کے ارکان ان کے اعتراض کو کالعدم قرار دے سکتے ہیں، جس کے بعد حتمی فیصلہ کانگریس کے ہاتھ میں ہوگا۔ اگر یہ آخری صورتحال پیدا ہوتی ہے تو قانون سازوں کے پاس ووٹنگ کے لیے 21 دن کا وقت ہوگا اور اس دوران نائب صدر صدارتی فرائض سنبھالیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan