اقوام متحدہ نے شہری اہداف کو نشانہ بنانے کو جنگی جرم قرار دیا
نیویارک،08اپریل(ہ س)۔جان بوجھ کر شہریوں کو ہدف بنانا اور شہری انفراسٹرکچر کو جنگی کارروائیوں کا نشانہ بنانا جنگی جرم ہے۔یہ باتیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہیں۔ ان کا یہ بیان صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف جاری اپنی جنگ میں دیے گ
اقوام متحدہ نے شہری اہداف کو نشانہ بنانے کو جنگی جرم قرار دیا


نیویارک،08اپریل(ہ س)۔جان بوجھ کر شہریوں کو ہدف بنانا اور شہری انفراسٹرکچر کو جنگی کارروائیوں کا نشانہ بنانا جنگی جرم ہے۔یہ باتیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہیں۔ ان کا یہ بیان صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف جاری اپنی جنگ میں دیے گئے ان بیانات کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی پلوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے اور ایک ہی رات میں ایرانی تہذیب کا خاتمہ کر دیں گے۔وولکر ترک کا یہ بیان منگل کے روز سامنے آیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں دی جانے والی دھمکی دینا کہ جان بوجھ کر شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے۔ انہوں نے کہا 'جو بھی بین الاقوامی قانون کے جرائم کا ذمہ دار ہو گا مجاز عدالت کے سامنے جوابدہ ہوگا۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سربراہ کا یہ بیان امریکی صدر کی طرف سے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن کے ختم ہونے سے محض چند گھنٹے پہلے سامنے آیا ہے۔ کہ اگر ایران نے امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ نہ کیا تو ایران کے طول و عرض میں انفراسٹرکچر سے متعلق مقامات کو بمباری کا نشانہ بنائے گا۔ ان کی یہ دھمکی ' ٹروتھ سوشل' پر سامنے آئی تھا۔تاہم انسانی حقوق سربراہ نے اس بیان میں صدر ٹرمپ کا نام لیا اور نہ ہی متعلقہ ممالک کا نام لیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف 28 فروری کو جنگ شروع کی تھی۔تاہم وولکر ٹرک نے کہا وہ مشرق وسطیٰ کی اس جنگ کے دوران فریقین کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے تہذیب کے خاتمے سے متعلق بیان کا بطور خاص ذکر کیا۔ یہ بیانات اور دھمکی سنگین بین الاقوامی جرم ہے۔اس لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہریوں کو خوف زدہ کرنے اور انہیں نقصان پہنچانے کی کوششوں اور کارروائیوں کو فوری روکا جانا چاہیے۔ کشیدگی کو فوری کم کیا جائے اور شہریوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات دور کیے جائیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande