ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ کو’جامع فتح‘ قراردیا،لبنان پر جنگ بندی لاگو کرنے سے نیتن یاہو کا انکار
واشنگٹن،08اپریل(ہ س)۔امریکہ- اسرائیل اور ایران کے درمیان گزشتہ تقریباً 40دنوں سے جاری جنگ کوامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آخر کار دوہفتوں کے لئے ختم کرنے کا اعلان کردیا ۔امریکی صدر نے بدھ کے روز ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کو امریکہ کی
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ کو’جامع فتح‘ قراردیا،لبنان پر جنگ بندی لاگو کرنے سے نیتن یاہو کا انکار


واشنگٹن،08اپریل(ہ س)۔امریکہ- اسرائیل اور ایران کے درمیان گزشتہ تقریباً 40دنوں سے جاری جنگ کوامریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آخر کار دوہفتوں کے لئے ختم کرنے کا اعلان کردیا ۔امریکی صدر نے بدھ کے روز ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کو امریکہ کی’مکمل اور جامع فتح‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کامیابی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا کہ ایرانی یورینیم کے مسئلے سے اب بھرپور طریقے سے نمٹا جائے گا اور اسی یقین دہانی پر انہوں نے اس سمجھوتے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ چین نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور وہ خود بھی مئی میں چینی صدر شی جین پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ کا دورہ کرنے والے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر حملے معطل کرنے کے امریکی فیصلے کی حمایت تو کی ہے لیکن وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہو گی۔اسرائیل نے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولے اور خطے میں تمام جارحانہ کارروائیاں بند کر دے۔ اس اعلان کے فوراً بعد عراق کی مسلح تنظیموں نے بھی خطے میں اپنی کارروائیاں دو ہفتوں کے لیے روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس سفارتی پیش رفت کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں مثبت لہر دوڑ گئی ہے، جہاں امریکی اسٹاک مارکیٹ کے سودوں میں اضافہ اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ اس امن معاہدے سے قبل آخری لمحات تک امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اہم انفراسٹرکچر بشمول پلوں، ہوائی اڈوں اور جزیرہ خارگ پر واقع تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، تاہم اب صدر ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے سے صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande