سبریمالا مندر کیس میں سپریم کورٹ کا تبصرہ: مذہب میں کیا اندھ وشواس ہے یہ فیصلہ کرنا عدالت کا حق
نئی دہلی ، 08 اپریل (ہ س)۔سبریمالا مندر کیس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اسے یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ کسی مذہب میں کون سی رسمیں توہم پرستی ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بات اس وقت کہی جب مرکزی حکومت نے دلیل دی کہ سیکولر عدالت اس معاملے پر
سبریمالا مندر کیس میں سپریم کورٹ کا تبصرہ: مذہب میں کیا اندھ وشواس ہے یہ فیصلہ کرنا عدالت کا حق


نئی دہلی ، 08 اپریل (ہ س)۔سبریمالا مندر کیس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اسے یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ کسی مذہب میں کون سی رسمیں توہم پرستی ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بات اس وقت کہی جب مرکزی حکومت نے دلیل دی کہ سیکولر عدالت اس معاملے پر فیصلہ نہیں کر سکتی کیونکہ جج قانون کے ماہر ہیں ، مذہب کے نہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں 9 رکنی آئینی بنچ کے سامنے آج اس کیس کی سماعت کا دوسرا دن تھا۔سماعت کے دوران، سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے، مرکز کی نمائندگی کرتے ہوئے دلیل دی کہ سیکولر عدالتیں اس بات کا تعین نہیں کرسکتی ہیں کہ ایک ضروری مذہبی عمل کیا ہے کیونکہ وہ مذہبی اسکالر نہیں ہیں۔ مہتا نے کہا کہ حقیقی سیکولرزم وہ ہے جہاں ریاست مذہب میں مداخلت نہیں کرتی ہے اور مذہب ریاست میں مداخلت نہیں کرتا ہے۔ جسٹس بی وی ناگرتھنا نے تب ریمارکس دیے کہ عوامی اخلاقیات جامد نہیں ہے۔ 1950 کی دہائی میں جسے غیر اخلاقی یا فحش سمجھا جاتا تھا آج ویسا نہیں ہے۔ جسٹس ناگارتھنا نے سوال کیا کہ کیا 1950 کی دہائی کے معیارات کو تنگ نظر سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقیات معاشرے کے ساتھ بدلتی ہیں ، اس لیے اسے صرف فرسودہ نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔مہتا نے کہا کہ عدالتوں کو عقیدے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ مختلف ریاستوں میں مذہبی اوقاف کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے دلیل دی کہ ریاستوں کو پجاریوں کی تقرری کا اختیار دینا اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ جیسے ہی آج سماعت شروع ہوئی، عرضی گزاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل راجیو دھون نے وقت مختص کرنے کا مسئلہ اٹھایا، اور دلیل دی کہ اگر سالیسٹر جنرل اکیلے ہی سارا وقت لے لیں گے تو درخواست گزاروں کو اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ عدالت نے تمام سینئر وکلاءکو مناسب وقت کی یقین دہانی کرائی۔

سپریم کورٹ کے نو ججوں کی آئینی بنچ نے 7 اپریل کو کیس کی سماعت شروع کی۔ اپنے حلف نامہ میں مرکزی حکومت نے کہا کہ سبری مالا مندر میں حیض کی عمر کی خواتین کے داخلے پر پابندی مذہبی عقیدے اور خود مختاری کا معاملہ ہے۔ مرکزی حکومت نے عدالت سے پابندی کو برقرار رکھنے کے لیے کہا ہے اور دلیل دی ہے کہ ایسے معاملات میں عدالتی نظرثانی کا دائرہ محدود ہونا چاہیے۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ میں جسٹس بی وی ناگارتھنا ، جسٹس ایم ایم سندریش ، جسٹس احسن الدین امان اللہ ، جسٹس اروند کمار ، جسٹس اے جے مسیح ، جسٹس پی بی ورلے ، جسٹس آر مہادیون اور جسٹس جویمالیہ باغچی شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے 28 ستمبر 2018 کو 4-1 کی اکثریت سے اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کافی عرصے سے جاری ہے۔ عورتیں مردوں سے کم نہیں ہیں۔ ایک طرف ہم خواتین کو دیوی مانتے ہیں تو دوسری طرف ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ حیاتیاتی اور جسمانی وجوہات کی بنا پر خواتین کے مذہبی عقیدے کی آزادی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا سمیت چار ججوں نے کہا کہ اس سے آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت دیے گئے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ جسٹس اندو ملہوترا نے دیگر چار ججوں کے فیصلے سے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو مذہبی عقائد کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عبادات میں عدالت کی مداخلت نامناسب ہے۔ عبادت کا طریقہ مندر کو خود طے کرنا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande