
جے پور، 8 اپریل (ہ س)۔ ریاست میں مغربی ہواو¿ں کے کم دباوں کے ایک نظام کے فعال ہونے کی وجہ سے موسم نے اچانک کروٹ لی ہے۔ راجستھان کے کئی اضلاع میں منگل کو بارش اور ژالہ باری جاری رہی، جس سے شہریوں کو گرمی سے راحت ملی جبکہ کسانوں کی تشویش میں بھی اضافہ ہوا۔ موسمیاتی محکمہ کے مرکز جے پور کے مطابق یہ سسٹم 8 اپریل تک مؤثررہے گا جس کے بعد موسم صاف ہونے کی امید ہے۔
منگل کو ریاست کے کئی اضلاع بشمول سری گنگا نگر، ہنومان گڑھ، ناگور، چورو، جھنجھونو اور سیکر میں تیز ہواو¿ں کے ساتھ بارش ہوئی اور کئی مقامات پر اولے گرے۔ کچھ علاقوں میں ہوا کی رفتار 40 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی۔ دارالحکومت جے پور میں بھی کل دیر رات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک موسلادھار بارش ہوئی، جس سے درجہ حرارت تقریباً سات ڈگری سیلسیس نیچے آیا اور موسم خوشگوار ہوگیا۔
بدلتے موسم کا اثردرجہ حرارت پر بھی نظر آیا۔ ریاست بھر کے 10 سے زیادہ شہروں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 ڈگری سیلسیس سے نیچے گر گیا۔ چتوڑ گڑھ میں جہاں سب سے زیادہ درجہ حرارت 36.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، وہیں سیکر ضلع کے فتح پور میں کم سے کم 25 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جوریاست کا سرد ترین مقام رہا۔
ریاست میں پھلودی میں 42.2 ملی میٹر، کوچامن میں 29 ملی میٹر، ناواں میں 25 ملی میٹر، مولاسر میں 23 ملی میٹر، انوپ گڑھ میں 32 ملی میٹر اور اجمیر میں 16 ملی میٹر بارش ہوئی۔ بارش نے جہاں موسم کو ٹھنڈا کیا وہیں کھیتوں اور بازاروں میں کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ مسلسل بارش اور ژالہ باری سے کھیتوں میں پانی بھر گیا ہے جس کی وجہ سے گیہوں اور اسبگول جیسی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ کئی مقامات پر کٹائی کے لیے تیار فصلیں خراب ہوگئی، وہیں منڈیوں میں کھلے میں رکھی گئی پیداوار بھی گیلی ہوگئی جس کی وجہ سے اس کی کوالٹی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھرت پور اور جے پور ڈویژن کے کچھ علاقوں میں ہلکی بارش کا امکان ہے۔ اس کے بعد موسم صاف ہو جائے گا اور درجہ حرارت بتدریج بڑھے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اپریل کے آخری ہفتے میں گرمی پھر سے اٹھنا شروع ہو جائے گی اور اس بار مئی اور جون میں یہ شدید ہو سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد