آر ایس ایس کے نام سے پھر سے فرضی خط جاری ، سنگھ نے اسے کانگریس کی سطحیسیاست کی ایک اور مثال قرار دیا
نئی دہلی، 8 اپریل (ہ س)۔ آسام میں انتخابی مہم کے آخری دن ایک بار پھر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نام ایک فرضی خط جاری کیا گیا۔ اسے مبینہ طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ کی طرف سے وزیر اعظم کو لکھا گیا خط بتایا جا رہا ہے۔ آسام میں کانگریس کے ق
RSS-FORZED-LETTER-CONGRESS


نئی دہلی، 8 اپریل (ہ س)۔ آسام میں انتخابی مہم کے آخری دن ایک بار پھر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نام ایک فرضی خط جاری کیا گیا۔ اسے مبینہ طور پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ کی طرف سے وزیر اعظم کو لکھا گیا خط بتایا جا رہا ہے۔ آسام میں کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کے آر ایس ایس اور بی جے پی کے بارے میں غیر مہذب اور نازیبا تبصرے کے بعد آر ایس ایس کے نام سے فرضی خط جاری کرنے کو کانگریس کی سوشل میڈیا ٹیم سے جوڑکر دیکھا جارہا ہے۔

آر ایس ایس کے پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے سابق اہلکار اور سروچی پبلیکیشن کے صدر راجیو تولی نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ ان سب باتوں اور حرکتوں سے ہمارے سویم سیوک اور آر ایس ایس کے لوگ متاثر نہیں ہوتے، لیکن انتخابی سیاست کے لیے غیر ضروری طور پر سنگھ پر حملہ کرنے سے کانگریس ہی زوال کی طرف جا رہی ہے۔ لوگ ان کی اس خراب ذہنیت کو خارج کر رہے ہیں۔

دراصل، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے لیٹر ہیڈ پر اور آر ایس ایس کے سربراہ کے فرضی دستخط کے ساتھ،وزیر اعظم کو لکھے گئے خط کی زبان ہی اس قدر سطحی اور غیر معیاری ہے کہ سنگھ کا سویم سیوک کیا،کوئی بھی عام سمجھ رکھنے والا شخص بھی اسے خارج کر دے گا۔ خط میں سنگھ کی ناراضگی کو ظاہر کرنے کے لئے مبینہ طور پر وزیر اعظم کو یہ کہا گیا کہ آسام بی جے پی میں جو ہو رہا ہے اور وزیر اعلیٰ کے خلاف جو الزامات عائد ہو رہے ہیں ، وہ سنگین ہیں اور انہیں دیکھا جانا چاہیے۔اس کے ساتھ ہی ، وزیراعظم کو متنبہ کرنے یا صلاح دینے والی زبان میں خط لکھا گیا ہے۔

راجیو تولی نے اسے ایک مضحکہ خیز اور بے شرم ناکام کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چاہے یہ کام کانگریس کی پروپیگنڈہ ٹیم نے کیا ہو یا کسی اور سیاسی گروپ نے، وہ ابھی تک آر ایس ایس اور اس کے سویم سیوکوں کو سمجھ ہی نہیں پائے ہیں۔ انہیں اس عام بات کی بھی سمجھ نہیں ہے کہ سیاسی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی تو بہت دور کی بات ، سنگھ اپنی کسی بھی منسلک تنظیم کو خط لکھ کر یا عوامی طور پر کبھی ہدایت نہیں دیتا۔ آر ایس ایس اور اس کی ہم خیال تنظیموں کا کام کرنے کا انداز اتنازبردست ہے کہ تنظیم کے تمام سینئر عہدیدار وقتاً فوقتاً رابطہ میٹنگوں میں ملتے ہیں، قومی اور سماجی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور پھر آپسی تال میل سے پروگرام طے کر کے اس پر کام کرتے ہیں۔ آر ایس ایس اپنی کسی بھی منسلک تنظیم کو ہدایت نہیں دیتا ہے،بلکہ کسی بھی مسئلے یا تنازعہ کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرتا ہے۔ اس کے باوجود آر ایس ایس کے مخالف اس طرحکے سطحی اور فرضی خطوط جاری کر کے اپنی گھبراہٹ اور انتخابی شکست کوپہلے ہی تسلیم کر لیتے ہیں۔ آخر ان کے پاس کیا مدعوں کی کمی ہے یا لوگوں کی انہیں حمایت حاصل نہیں ہے جو وہ سنگھ کا نام انتخابی سیاست میں لاکر اس کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں؟

راجیو تولی کا کہنا ہے کہ آسام میں کانگریس صدر نے سنگھ کے بارے میں جو تبصرہ کیا، وہ ملک کے ہی خلاف ہے۔ وہ ایک طر ح سے خانہ جنگی چھیڑنے کی کال ہے ۔ انہوں نے مسلم ووٹوں کے لالچ اور آر ایس ایس کے نام پر خوف پیدا کرنے کی اپنی کوشش میںسنگھ کا موازنہ سانپ سے کر دیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ نماز توڑ کر بھی سنگھ کو مارنے کے لیے حملے کرو۔ کانگریس کی یہ ہمیشہ سے ذہنیت رہی ہے کہ وہ ہندو- مسلم، ہندو- عیسائی یا ہندو سماج کے اندر ذات پات کی بنیاد پر تقسیم پیدا کرکے کسی بھی طرح اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اسے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ لوگ پہلے سے زیادہ پڑھے لکھے، ذہین اور باشعور ہو گئے ہیں۔ وہ اس خوف کی سیاست سے اوپر اٹھ چکے ہیں۔ آر ایس ایس کے ارکان نے اپنے کام اور سماج کے ساتھ مسلسل بات چیت کے ذریعے اپنے بارے میں پھیلائی گئی جھوٹی باتوں کو بڑی حد تک دور کر دیا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت نے بھی متعدد عوامی پلیٹ فارم سے واضح کیا ہے کہ ہندوستانی ہندو اور ہندوستانی مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہی ہے۔ ہمارے اور ان کے آباو¿ اجداد ایک ہیں۔ صرف عبادت کے طریقے اور ویش بھوشامیں فرق ہو گیاہے۔ سنگھ مسلم معاشرے کی قیادت کے ساتھ بھی مسلسل صحت مند بات چیت کرتا ہے اور ان سے قومی مفاد میں پورے سماج کو صحیح سمت میں لے جانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande