کھڑگے کے مبینہ بیان پر آسام میں تنازعہ، آر ایس ایس نے پولیس میں شکایت درج کرائی
کھڑگے کے مبینہ بیان پر آسام میں تنازعہ، آر ایس ایس نے پولیس میں شکایت درج کرائی گوہاٹی/سلچر، 08 اپریل (ہ س)۔ آسام میں انتخابی ماحول کے درمیان ایک مبینہ متنازعہ بیان کو لے کر سیاسی سرگرمی تیز ہوگئی ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی شما
عالمی یوم امن پر کانگریس صدر کھڑگے نے کہا ’شانتی آتما‘سے آتی ہے


کھڑگے کے مبینہ بیان پر آسام میں تنازعہ، آر ایس ایس نے پولیس میں شکایت درج کرائی

گوہاٹی/سلچر، 08 اپریل (ہ س)۔ آسام میں انتخابی ماحول کے درمیان ایک مبینہ متنازعہ بیان کو لے کر سیاسی سرگرمی تیز ہوگئی ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی شمالی آسام اور جنوبی آسام کی اکائیوں نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ یہ شکایت گوہاٹی کے دسپور پولیس اسٹیشن اور سلچر پولیس اسٹیشن میں الگ الگ درج کرائی گئی ہے۔ آر ایس ایس کا الزام ہے کہ جنوبی آسام کے شری بھومی ضلع کے کریم گنج جنوبی اسمبلی حلقہ کے نیلام بازار میں منعقدہ ایک انتخابی ریلی کے دوران کی گئی تقریر میں مذہبی جذبات اور سیاسی تنظیموں کے حوالے سے قابلِ اعتراض تبصرے کیے گئے۔

شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کھڑگے نے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریات کا موازنہ ’زہریلے سانپ‘ سے کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ الزام ہے کہ تقریر میں ایک مثال کے ذریعے یہ کہا گیا کہ اگر کوئی خطرہ سامنے ہو تو پہلے اسے ختم کرنا چاہیے، جسے آر ایس ایس نے اشتعال انگیز اور حساس قرار دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کی جانب سے دائر شکایات میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات انتخابی ماحول میں سماجی ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے تبصرے سیاسی کارکنوں اور حامیوں کے درمیان دشمنی اور کشیدگی کو فروغ دے سکتے ہیں۔

ایف آئی آر میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ بیان عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے دفعات کے تحت قابلِ اعتراض انتخابی طرزِ عمل کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ ساتھ ہی اسے عوامی امن کو بگاڑنے اور مختلف برادریوں کے درمیان تناو پیدا کرنے والا بتایا گیا ہے۔ آر ایس ایس نے انتظامیہ سے اس معاملے میں فوری اور منصفانہ کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام میں اظہارِ رائے کی آزادی اہم ہے، لیکن انتخابی پلیٹ فارم پر ایسی زبان کا استعمال نہیں ہونا چاہیے جو سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرے۔

فی الحال اس معاملے پر کانگریس پارٹی یا ملکارجن کھڑگے کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ انتظامیہ نے شکایات وصول کر کے مزید تحقیقاتی عمل شروع کرنے کی بات کہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande