
پونے ، 8 اپریل (ہ س) پونے میں ایک پروگرام کے دوران اداکارہ ڈاکٹر مُگدھا کرنک کے متنازع بیان کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں وارکری روایت، سنتوں کی تعلیمات اور شری وٹھل کے عقیدت مندوں سے متعلق ان کے ریمارکس پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور ان سے فوری معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ڈاکٹر مُگدھا کرنک نے ایک تقریب میں خطاب کے دوران سنت روایت اور مذہبی عقائد سے متعلق ایسے بیانات دیے، جنہیں کئی حلقوں نے قابل اعتراض قرار دیا۔
شری وٹھل-رکمنی مندر کمیٹی کے نائب صدر گہنِناتھ مہاراج آوسیکر نے ان بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات وارکری عقیدت مندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے ہیں، اس لیے اداکارہ کو عوامی طور پر معافی مانگنی چاہیے۔ مندر کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وارکری روایت صدیوں سے معاشرے میں مساوات، محبت، امن اور روحانیت کا پیغام دیتی آئی ہے، اور سنتوں کی تعلیمات نے سماج میں ہم آہنگی اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے حالات میں سنت روایت اور مذہبی عقائد سے متعلق اس نوعیت کے بیانات نہ صرف گمراہ کن ہیں بلکہ عقیدت مندوں کے ایمان کو مجروح کرنے والے بھی ہیں، جس کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔ اس معاملے پر سماجی اور مذہبی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ مندر کمیٹی نے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے اس تنازع پر فوری وضاحت اور معافی کا مطالبہ دہرایا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے