طالبات کی حفاظت کو لیکر بھوپال میں اے بی وی پی کا شدید احتجاج، سڑک جام اور شراب کی دکان پر پتھراو
بھوپال، 08 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں طالبات کے تحفظ کے حوالے سے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کا احتجاج بدھ کو شدید رخ اختیار کرتا نظر آیا۔ پولی ٹیکنک چوراہے کے پاس کالجوں کے قریب چلنے والی شراب کی دکان کے خلاف
بھوپال میں اے بی وی پی کا شدید احتجاج


بھوپال، 08 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں طالبات کے تحفظ کے حوالے سے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کا احتجاج بدھ کو شدید رخ اختیار کرتا نظر آیا۔ پولی ٹیکنک چوراہے کے پاس کالجوں کے قریب چلنے والی شراب کی دکان کے خلاف طلبہ نے سڑک پر اتر کر زوردار احتجاج کیا۔ اس دوران سڑک جام، پتھراو اور پولیس کے ساتھ جھڑپ جیسے واقعات سامنے آئے۔

بدھ کی دوپہر بڑی تعداد میں اے بی وی پی کارکنان پولی ٹیکنک چوراہے پر جمع ہوئے اور راجہ بھوج سیتو سے لے کر چوراہے تک روڈ جام کر دیا۔ اچانک ہونے والے اس احتجاج سے ٹریفک مکمل طور پر درہم برہم ہو گیا اور سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

صورتحال اس وقت خراب ہوگئی جب مظاہرین کا غصہ بڑھ گیا۔ کارکنوں نے شراب کی دکان کے بورڈ پر چڑھ کر اسے پھاڑ دیا اور دکان پر پتھراو کر کے نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ موقع پر موجود پولیس فورس نے حالات سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن اس دوران پولیس اور کارکنوں کے درمیان دھکا مکی اور جھڑپ بھی ہوئی۔

اے بی وی پی عہدیدار شالنی ورما نے الزام لگایا کہ متعلقہ شراب کی دکان، ایم ایل بی گرلز کالج اور ایس وی کو-ایڈ کالج جیسے تعلیمی اداروں کے 100 میٹر کے دائرے میں چل رہی ہے، جو قوانین کی براہِ راست خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پر لاپرواہی اور ساز باز کے سنگین الزامات لگائے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ علاقے میں حال ہی میں طالبات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ الزام ہے کہ شراب کے نشے میں بدمعاش عناصر طالبات کو نشانہ بناتے ہیں، جس سے ان کے تحفظ پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔

اے بی وی پی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے کئی بار پرامن طریقے سے میمورنڈم دے کر شراب کی دکان ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن کارروائی نہیں ہونے پر انہیں تحریک تیز کرنی پڑی۔ احتجاج کے بعد کارکنوں نے ایس ڈی ایم کو کلکٹر کے نام میمورنڈم سونپا، جس میں شراب کی دکان کو فوری طور پر ہٹانے، علاقے میں سی سی ٹی وی لگانے اور محفوظ آمد و رفت کے لیے اوور برج بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایس ڈی ایم بھون گپتا نے مظاہرین سے بات چیت کے بعد یقین دہانی کرائی کہ معاملے کی جانچ کر کے جلد مناسب کارروائی کی جائے گی۔ وہیں پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال فی الحال قابو میں ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande