
نئی دہلی،08اپریل(ہ س)۔ کانگریس کی سینیر لیڈر اور سابق وزیر محترمہ محسنہ قدوائی کا 8 اپریل2026 کو دہلی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین جسٹس بدر در ریز احمد نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا وہ ایک قابل وزیر حوصلہ مند خاتون تھیں۔ ان کے انتقال سے تہذیبی سطح پر بھی ایک خلا پیدا ہوا ہے جس کا اندازہ آنے والے وقت میں شدت سے محسوس ہوگا۔ وہ غالب انسٹی ٹیوٹ سے گہری وابستگی رکھتی تھیں اور بہت اہم مسائل میں انھوں نے اس ادارے کی مدد بھی کی۔ میں ان کے خانوادے کو تعزیت پیش کرتا ہوں اور ان کے بلندی درجات کے لیے دعا گو ہوں۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے سیکرٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا بیگم محسنہ قدوائی نہ صرف انڈین نیشنل کانگریس کی ایک تجربہ کار اور اہم سیاسی شخصیت تھیں بلکہ درد مند اور منصوبہ ساز شخصیت بھی تھیں جنہوں نے عوامی خدمت، سماجی بہبود اور قومی سطح پر مسلسل خدمات انجام دیں۔ میرے لیے ذاتی طور پر اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے لیے بھی ان کا انتقال ایک بڑا نقصان ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے ذریعے جو قدم اٹھائے گئے ان پر مسلسل عمل اصل خراج عقیدت ہے۔ انھوں نے غالب انسٹی ٹیوٹ کی فلاح و ترقی کے جو کوششیں کیں ان کو یہ ادارہ اور اس کے وابستگان کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔اس مشکل وقت میں یہ ادارہ اور اس کے تمام وابستگان ان کے خانوادے سے اظہار تعزیتی کرتے ہیں اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ خدا ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais