
امریکہ-اسرائیل نے ایران پر حملے روک دیے، آبنائے ہرمز کھلے گا، دو ہفتے کی جنگ بندی نافذ
واشنگٹن/تل ابیب/تہران، 08 اپریل (ہ س)۔ امریکہ بالآخر دو ہفتوں کی جنگ بندی (سیز فائر) پر راضی ہو گیا ہے۔ اس پر اسرائیل نے بھی ہامی بھر لی ہے۔ دونوں نے ثالث ممالک کی بات مان لی ہے اور اب ایران کے ساتھ آمنے سامنے کی بات چیت کی تیاری کی جا رہی ہے۔ 28 فروری سے ایران کے ساتھ چھڑی جنگ کے شعلوں میں امریکہ اور اسرائیل کے مددگار ممالک بھی جھلس چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل پر دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان سے دنیا نے بڑی راحت محسوس کی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے روک دیے ہیں۔
سی این این، سی بی ایس نیوز، الجزیرہ اور دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اب ایران کے ساتھ براہِ راست (آمنے سامنے) بات چیت کی تیاری کر رہی ہے۔ امریکی وفد کی قیادت ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ اس کا مقصد طویل مدتی معاہدے کا مسودہ تیار کرنا ہے۔ وائٹ ہاوس کی پریس سکریٹری کیرولین لیوٹ نے تسلیم کیا کہ اس وقت آمنے سامنے کی بات چیت پر تبادلہ خیال جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کا حتمی اعلان صدر یا وائٹ ہاوس کریں گے۔
کچھ حکام نے بتایا کہ یہ میٹنگ ممکنہ طور پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوگی۔ ان حکام کے مطابق، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، داماد جیریڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس کے اس میٹنگ میں شامل ہونے کی امید ہے۔ حالانکہ وینس اس وقت ہنگری کے دورے پر ہیں۔ دوسری طرف، ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی مہم میں امریکہ کے اتحادی اسرائیل کے حکام ٹرمپ کے موقف میں اچانک آنے والی تبدیلی سے حیران ہیں۔ تاہم اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ٹرمپ کی رضامندی پر اپنی ہامی بھر دی ہے۔ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ اسرائیل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پیروی کرتے ہوئے اس جنگ بندی کی پاسداری کرے گا۔
اس دوران ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے اندر حملے روک دیے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران اس کی فوج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرے گی۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے 10 نکاتی منصوبے کو قبول کر لیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ’کچھ بنیادی معاملات پر زور دیتا ہے‘، جیسے کہ ’ایران کی مسلح افواج کے تعاون کے تحت آبنائے ہرمز سے جہازوں کی کنٹرولڈ آمد و رفت۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے ایران کو ’ایک مخصوص معاشی اور جیو پولیٹیکل درجہ‘ حاصل ہوگا۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ان دو ہفتوں کے دوران، آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت ’ایران کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور تکنیکی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی ممکن ہو سکے گی۔‘ انہوں نے اس جنگ بندی میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور وہاں کے فوجی سربراہ عاصم منیر کے کردار کی تعریف کی ہے۔
اس سے پہلے آج علی الصبح تقریباً تین بجے خلیج کے کئی ممالک نے کہا تھا کہ وہ گزشتہ ایک گھنٹے سے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں یہ اہم ہے کہ یہ قلیل مدتی جنگ بندی ٹرمپ کے حملے شروع کرنے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل عمل میں آئی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران ہرمز کو نہیں کھولتا تو اسے راتوں رات تباہ کر کے ایک تہذیب کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ کی دھمکی سے دنیا بھر میں کھلبلی مچ گئی۔ اقوامِ متحدہ کے سربراہ انٹونیو گوٹریس نے ایکس پر کہا، ’ایسا کوئی بھی فوجی مقصد نہیں ہے جو کسی معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کی مکمل تباہی یا عام شہریوں کو جان بوجھ کر تکلیف پہنچانے کو درست قرار دے سکے۔‘ پوپ لیو نے کہا کہ یہ دھمکیاں حقیقت میں ناقابلِ قبول ہیں۔ اس دوران، اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ روک دیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن