
ایچ ایم میگوئل انجیل موراٹینوس،اقوام متحدہ کے اعلی نمائندے برائے تہذیبی اتحاد کا ہندوستان میں ان کے آفیشیل دورے کے موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں خطابنئی دہلی،08اپریل(ہ س)۔جامعہ ملیہ اسلامیہ نے میگوئیل انجیل موراٹینوس انڈر سیکرٹیری جنرل اقوام متحدہ الائس فار سویلائزیشن (یواین اے او سی)کے اعلی نمائندے اور اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے خاص سفیر کی بھارت کے ان کے آفیشیل دورے پر کل میزبانی کی۔ یہ دورہ مختلف تہذیبوں و ثقافتوں اور معاشروں کے درمیان تعاون،باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے فروغ کے مقصد سے اہمیت رکھتا ہے۔
دورے پر آئے وفد میں ایچ ایم میگوئل انجیل،محترمہ نہال سعد، ڈائریکٹر یو این اے او سی،محترمہ انا پولی اوچنکو، پروگرام آفیسر،انسٹی ٹیوشن اور ممبر اسٹیٹ ریلیشن ایڈوازئر،جناب محمد شبیر کے، انڈر سیکریٹری، (یو این ای ایس) وزارت برائے امور خارجہ،جناب سریش چنرابھٹ،جوائنٹ سیکریٹری(یو این ایس ایس۔ دو) کے پی اے،اور محترمہ دیوانشی سکسینہ،آفیسر ٹرینی،وزارت امور خارجہ حکومت ہند شامل ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ، ڈین (اکیڈمک افیئرز) ڈین (انٹر نیشنل ریلیشنز) ڈین (رسرچ اینڈ انوویشن)،کنٹرولر امتحانات، چیف پراکٹر، یونیورسٹی لائبریرین، افسر اعلی تعلقات عامہ(سی پی آر او) جامعہ کی تمام فیکلٹیز کے ڈینز اور یونیورسٹی کے اعلی عہدیداران نے میٹنگ میں شرکت کی۔
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے خیر مقدمی تقریر سے پروگرام کا آغاز ہوا۔انہوں نے معزز مہمانان اور مندوبین کا والہانہ استقبال کیا اور شمولیتی تعلیم، تہذیبی تنوع اور تعلیمی افضلیت کے تئیں پابند عہد سرکردہ ادارے کے طورپر جامعہ کی وراثت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں یونائیڈنیشن الائنس فار سویلائزیشن کے زیر اہتمام فروغ پانے والی قدروں بین الاقوامی اشتراکات اور بین تہذیبی مذاکرات کے فروغ میں یونیورسٹی کی متواتر دلچسپی پر زوردیا۔
پروفیسر رضوی نے مغربی ایشیا میں موجودہ تنازعات اور عرب اسرائیل تنازعہ کی ابتدا اور خطے کی پیچیدہ تاریخ کے معاہدوں اور بڑھتے ہوئے تنازعہ میں بڑی طاقتوں کے مضمرات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے امن کی تعمیر اور تنازعات کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نیلسن منڈیلا سینٹر فار پیس اینڈ کنفلیکٹ ریزولوشن جہاں وہ پروفیسر بھی ہیں، گزشتہ دو دہائیوں سے تعلیم اور تحقیق کے لیے پوری طرح پرعزم ہے جس کا مقصد قیام امن ہے۔
ایچ ای اقوام متحدہ کے انڈر سکریٹری جنرل اور یونائٹیڈ نیشن الائنس فار سویلائزیشن (UNAOC) کے اعلی نمائندے مسٹر میگوئل اینجل مورٹینوس نے اپنے خطاب میں بین ثقافتی مکالمے، جامع معاشروں، اور علمی اداروں اور باہمی امن کو فروغ دینے میں شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا۔ ذمہ دار عالمی شہریوں کی تشکیل میں یونیورسٹیوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے ثقافتوں کے درمیان پل بنانے میں نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے تین اہم عالمی خدشات کو اجاگر کیا جن کے لیے اجتماعی کاروائی کی ضرورت ہے، یعنی امن، پائے دار ترقی کے اہداف (SDGs)، خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی اور کرہ ارض کی حفاظت کی ضرورت؛ اور مصنوعی ذہانت کے پیدا کردہ چیلینجز اس کے علاوہ انہوں نے اخلاقی فریم ورک، کثیر جہتی تعاون، اور ذمہ دار تکنیکی ترقی کی اہمیت پربھی زور دیا۔
. مغربی ایشیا میں موجودہ جنگ اور جب بھی تنازعات اور جنگ ہوتی ہے اس سلسلے میں انسانیت کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے، ایچ۔ایم مسٹر میگوئل اینجل موراٹینوس نے زور دے کر کہا کہ ’امن کو ترجیح دینی چاہیے، ہمیں امن کے بغیر کبھی بھی سیکیورٹی نہیں ملے گی۔ گزشتہ چار دہائیوں میں حکومتوں اور ریاستی عناصر نے سیکیورٹی کو اولین ترجیح دی ہے اور ناکام رہے ہیں۔ جب بھی ہم سیکیورٹی خطرے میں ڈالتے ہیں تو ہم ناکام رہتے ہیں۔ زیادہ سیکیورٹی زیادہ عدم تحفظ فراہم کرے گی۔ ہم امن کے ذریعے ہی سیکیورٹی حاصل کریں گے۔”جنگوں کی مذمت، جو انسانیت کو نہیں بچا سکتی ایچ۔ایم مسٹر مورنٹیوس نے متنبہ کیا کہ بدقسمتی سے ہم انسانیت کو درپیش اہم مسائل، غربت، بھوک، تعلیم اور پائیدار صحت کے حل پر توجہ دینے کے بجائے جنگوں پر کھربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ مسٹر موراتینوس نے دنیا کو امن کا ایک مضبوط پیغام دیتے ہوئے کہا، ”بہت سی ثقافتیں، کئی ممالک اور تہذیبیں ہو سکتی ہیں، لیکن ہم سب ایک انسانیت بنتے ہیں“۔
پروفیسر مظہر آصف جامعہ ملیہ اسلامیہ، نے صدارتی گفتگو کرتے ہوئے جامعہ کی تکثیریت، بقائے باہمی، اور قومی تعمیر کے عزم سے منور تاریخ اور روایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے آج کی دنیا میں محبت اور ہمدردی کی مطابقت پر زور دیا، تصوف کی جامع روایات سے استفادہ کرتے ہوئے نیز مختلف ’ازم کی عکاسی کرتے ہوئے انہوں نے تمام انسانی سرگرمیوں کے پیچھے محرک کے طور پر محبت، امن اور ہم آہنگی کے ساتھ مشترکہ انسانی اقدار کی طرف منتقل ہونے پر زور دیا۔ انہوں نے یونیورسٹیوں کو مکالمے، تنقیدی سوچ، اور متنوع کمیونٹیز کے درمیان مشغولیت کے مقامات کے طور پر اجاگر کیا، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بین ثقافتی افہام و تفہیم، نوجوانوں کی شمولیت، قیام امن، اور مشترکہ انسانی اقدار کے فروغ کے شعبوں میں UNAOC کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
پروگرام کا اختتام پروفیسر اشویندر کور پوپلی، ڈین، بین الاقوامی تعلقات، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شکریے کے ساتھ ہوا، جنہوں نے تقریب کو بامقصد اور کامیاب بنانے میں ان کی موجودگی اور تعاون کے لیے معززین، یونیورسٹی کی قیادت، فیکلٹی ممبران، اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے نے ادارہ جاتی مشغولیت کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اقوام متحدہ کے تہذیبوں کے اتحاد کے مقاصد کے مطابق بات چیت، تعاون اور عالمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais