سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر محسنہ قدوائی سپرد خاک ، قبرستان پہنچ کر راہل گاندھی نے خراج عقیدت پیش کیا
نوئیڈا، 8 اپریل (ہ س)۔ محسنہ قدوائی، جو کبھی گاندھی خاندان کی قابل اعتماد ساتھی اور سابق مرکزی وزیر تھیں، کو دہلی کے نظام الدین قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ 94 سالہ محسنہ کا بدھ کی صبح نوئیڈا کے میٹرو اسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔
سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر محسنہ قدوائی سپرد خاک ، قبرستان پہنچ کر راہل گاندھی نے خراج عقیدت پیش کیا


نوئیڈا، 8 اپریل (ہ س)۔

محسنہ قدوائی، جو کبھی گاندھی خاندان کی قابل اعتماد ساتھی اور سابق مرکزی وزیر تھیں، کو دہلی کے نظام الدین قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ 94 سالہ محسنہ کا بدھ کی صبح نوئیڈا کے میٹرو اسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا۔ محسنہ کی موت کی خبر سنتے ہی کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے، سابق مرکزی وزراء سلمان خورشید اور جئے رام رمیش سمیت کئی سرکردہ لیڈران ان کے گھر گئے اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے قبرستان کا دورہ کیا۔

کانگریس لیڈر محسنہ قدوائی اپنے خاندان کے ساتھ نوئیڈا کے سیکٹر 40 میں رہتی تھیں۔ انہیں بدھ کی صبح تشویشناک حالت میں نوئیڈا کے سیکٹر 12 کے ایک اسپتال لے جایا گیا، لیکن بعد میں ان کی موت ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ محسنہ قدوائی کی موت کی خبر سنتے ہی کانگریس کے کئی سینئر لیڈر، سابق وزرا اور ان کے حامی ان کی رہائش گاہ پر پہنچنا شروع ہو گئے۔

کانگریس لیڈر محسنہ قدوائی کا آخری سفر ان کی نوئیڈا کی رہائش گاہ سے شروع ہوا۔ ان کی میت کو دہلی کے نظام الدین قبرستان میں لے جایا گیا، جہاں انہیں اسلامی رسومات کے مطابق سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس موقع پر کانگریس قائدین، کارکنان اور خیر خواہوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اس سے قبل کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی نوئیڈا میں محسنہ کی رہائش گاہ پہنچ کر ان کی آخری رسومات ادا کی اور انہیں دلی خراج عقیدت پیش کیا۔ ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ محسنہ قدوائی صرف ایک سیاست دان نہیں تھیں بلکہ ہندوستانی سیاست میں دیانت، جدوجہد اور نظریاتی وضاحت کی علامت تھیں۔ ایک ایسے وقت میں جب سیاست میں اقدار زوال پذیر ہیں، قدوائی جیسی شخصیت کا کھو جانا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے جس استقامت کے ساتھ گاندھیائی نظریہ اور آئینی اقدار کی نمائندگی کی وہ آنے والی نسلوں کے لیے تحریک کا باعث بنے گی۔ کھرگے نے کہا کہ مرکزی وزیر کے طور پر ان کے دور نے اس لگن کا مظاہرہ کیا جس کے ساتھ عوامی خدمت کے لیے طاقت کا استعمال کیا جانا چاہیے۔

محسنہ کے انتقال کی خبر سنتے ہی، سابق مرکزی وزراء سلمان خورشید، آنند شرما، راجیہ سبھا کے رکن جے رام رمیش، رکن پارلیمنٹ تنوج پونیا، اور قومی ترجمان سپریہ شندے نے نوئیڈا کے سیکٹر 40 میں واقع ان کی رہائش گاہ پر جا کر اہل خانہ سے تعزیت کی۔ ان رہنماو¿ں نے معاشرے میں محسنہ قدوائی کی خدمات کو یاد کیا۔ دریں اثنا، قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی، راجیہ سبھا کے رکن مکل واسنک، اور سابق رکن پارلیمنٹ سندیپ دکشت نے بھی محسنہ قدوائی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ محسنہ قدوائی اصل میں بارہ بنکی ضلع کی رہنے والی تھیں۔ وہ یکم جنوری 1932 کو مسولی، بارہ بنکی میں پیدا ہوئیں۔ محسنہ قدوائی کی تین بیٹیاں ہیں۔ وہ اعظم گڑھ، بہرائچ اور میرٹھ سے ممبر پارلیمنٹ رہ چکی ہیں۔ وہ 1978 کے ضمنی انتخابات، 1980 اور 1984 میں میرٹھ، اتر پردیش سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔ محسنہ قدوائی نے حج کمیٹی کی چیئرپرسن کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ سابق وزرائے اعظم آنجہانی اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی کی قریبی ساتھی سمجھی جاتی تھیں۔ کانگریس لیڈر محسنہ قدوائی نے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی حکومتوں میں مرکزی وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں، ان کے پاس صحت، شہری ترقی، سیاحت اور شہری ہوا بازی جیسے قلمدان تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande