
نئی دہلی، 8 اپریل (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی دیکھی گئی ہے۔ برینٹ کروڈ تقریباً 91.88 ڈالر فی بیرل تک گر گیا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ تقریباً 91.05 ڈالر تک پہنچ گیا۔
منگل کو بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 16 فیصد یعنی 17.39 ڈالر گر کر 91.88 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جب کہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 20 فیصد یعنی 21.90 ڈالر گر کر 91.05 ڈالر تک پہنچ گئی۔ تاہم، یہ قیمتیں اب بھی مشرق وسطیٰ میں بحران کے آغاز سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اس کمی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ جنگ بندی کو کس حد تک مؤثر طریقے سے نافذ کیا جاتا ہے، اور کیا آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی سپلائی معمول پر آتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس اقدام سے عالمی منڈیوں میں راحت کا احساس پیدا ہوا ہے۔ اس فیصلے میں آبنائے ہرمز کو سمندری ٹریفک کے لیے دوبارہ کھولنے کا عزم بھی شامل ہے۔ اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی جب کہ اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد