جنگ بندی کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ، ڈبلیو ٹی آئی کروڑ میں 17 فیصد تک کی کمی
نئی دہلی، 8 اپریل (ہ س)۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں سیزفائر کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت مین 17 فیصد تک کی بڑی گراوٹ درج کی گئی۔ برینٹ کروڈ گر کر 91.88 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ
Crude-Oil-Price-Fall


نئی دہلی، 8 اپریل (ہ س)۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں سیزفائر کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت مین 17 فیصد تک کی بڑی گراوٹ درج کی گئی۔ برینٹ کروڈ گر کر 91.88 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی ) کروڈ 91.05 ڈالر فی بیرل تک گر گیا۔ اس سے قبل،گزشتہ سیشن کے دوران، برینٹ کروڈ 109.27 ڈالر فی بیرل کی سطح پر بند ہوا تھا، جب کہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ نے گزشتہ سیشن کا کاروبار 112.95 ڈالر فی بیرل پر ختم کیا تھا۔ ہندوستانی وقت کے مطابق ،صبح 9 بجے برینٹ کروڈ 13.47 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 94.56 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 15.20 فیصد گر کر 95.78 ڈالر فی بیرل پر آگیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی اور شہری انفراسٹرکچر پر بمباری کو دو ہفتے کے لیے روکنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں یہ کمی درج کی گئی ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ متنازعہ معاملات پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر، انہوں نے وضاحت کی کہ یہ دو طرفہ جنگ بندی ہو گی، جس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری اور محفوظ طریقے سے دوبارہ کھولنے پر رضامند ہو جائے ۔

پوری دنیامیں خام تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریباً20فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعہ ہوتا ہے، لیکن مغربی ایشیا میں جاری جنگ کی وجہ سے اس کے تقریباً بند ہو جانے سے عالمی سطح پراتھل پتھل مچ گئی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ڈبلیو ٹی آئی کروڈکی قیمت 70 فیصد تک بڑھ گئی ہے ۔

جنگ بندی کے اعلان کے باوجود، ماہرین کا خیال ہے کہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کے مکمل طور پر کام کرنا مشکل ہے۔ جنگ کی وجہ سے تیل کے بنیادی ڈھانچے کا فزیکلسسٹم جلد بحال نہیں ہوسکے گا۔ خاص طور پر، جنگ کی وجہ سے بند تیل کے کنوو¿ں کو دوبارہ شروع کرنے، عملے اور بحری جہازوں کی نقل وحرکت اور ریفائنری انوینٹریوں کی تعمیر نو میں کافی وقت لگے گا۔ لہٰذا، تیل کی منڈی میں آئی یہ کمی چند سیشن میں ختم ہونے لگے گی اور خام تیل ایک بار پھر 100 ڈالر کی سطح کے قریب یا اس سے اوپر تجارت کرنے لگے گا۔

ٹی این وی فائنانشیل سروسز کے سی ای او تارکیشور ناتھ ویشنو کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی بڑھی ہوئی قیمت کا طویل عرصے تک برقرار رہناہندوستان کے کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے کو بڑھا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر مالیاتی خسارے کے اہداف کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہندوستانی کرنسی کو کمزور کر سکتا ہے، افراط زر میں اضافہ کر سکتا ہے اور غیر ملکی سرمائے کے اخراج کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح، معیشت پر بڑھتا ہوا دباو¿ اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کا باعث بن سکتا ہے، جو حکومت کو سبسڈی، شرح سود اور روپیہ ڈالر کی ایکسچینج ریٹ پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے سخت فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande