
رتناگیری ، 8 اپریل (ہ س) رتناگیری کے ساحلی علاقے میں محکمہ ماہی پروری نے غیرقانونی ماہی گیری کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایل ای ڈی کے ذریعے شکار کرنے والی متعدد کشتیوں کو ضبط کر لیا، جس سے اس غیرقانونی کاروبار میں ملوث افراد میں ہلچل مچ گئی ہے۔
محکمہ کے مطابق جائیگڑ بندرگاہ کے قریب نصف شب کو اچانک چھاپہ مارا گیا، جہاں سمندر کی تیز لہروں اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایل ای ڈی کی مدد سے ماہی گیری کرنے والی تین کشتیوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ اس سے قبل 3 اپریل 2026 کو صبح 2 بج کر 17 منٹ پر میرکرواڑا سے گنپتی پُلے کے درمیان گشت کے دوران “بھراڈی پرسن” نامی کشتی کو ایل ای ڈی آلات سمیت ضبط کیا گیا تھا۔
اسی سلسلے میں 7 اپریل کو رات 10 بجے گُہاگھر-دابھول علاقے میں ایک اور کارروائی کے دوران “صفا مروا-1” نامی کشتی کو غیرقانونی ماہی گیری کرتے ہوئے پکڑا گیا، جسے فی الحال دابھول بندرگاہ پر ضبط کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں اسسٹنٹ کمشنر ساگر کویسکر کی رہنمائی میں انجام دی گئیں، جبکہ دیپتی سالوی، سواپنیل چوہان اور دیگر افسران و عملے نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔
حکام کے مطابق ضبط شدہ کشتیوں کے خلاف مہاراشٹر میری ٹائم فشریز ریگولیشن ایکٹ 1981 اور ترمیمی آرڈیننس 2021 کے تحت سخت کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور تمام معاملات مزید فیصلے کے لیے متعلقہ افسران کو بھیجے جائیں گے۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ آئندہ بھی ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ ریاستی وزیر نیتیش رانے کی ہدایت پر ’آپریشن کلین سی‘ کے تحت جائیگڑ سے دابھول تک وسیع سمندری علاقے میں مہم تیز کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے باعث غیرقانونی ماہی گیری میں ملوث گروہوں میں خوف پیدا ہو گیا ہے اور محکمہ اس سلسلے میں مزید سخت اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے