منماڈ علاقے میں کسانوں کا شدید احتجاج، اجتماعی خودسوزی کی دھمکی
منماڈ (ناسک) ، 8 اپریل (ہ س)۔ ناسک ضلع کے منماڈ کے قریب انکواڈے اور سٹانہ علاقوں کے کسانوں نے اپنی زمینوں پر ایم آئی ڈی سی کی مبینہ غیرقانونی اندراج کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اجتماعی خودسوزی کی دھمکی دے دی اور مطالبہ کیا کہ 7/12 ریکارڈ سے
Agriculture Manmad Farmers Protest


منماڈ (ناسک) ، 8 اپریل (ہ س)۔

ناسک ضلع کے منماڈ کے قریب انکواڈے اور سٹانہ علاقوں کے کسانوں نے اپنی زمینوں پر ایم آئی ڈی سی کی مبینہ غیرقانونی اندراج کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اجتماعی خودسوزی کی دھمکی دے دی اور مطالبہ کیا کہ 7/12 ریکارڈ سے یہ اندراج فوری طور پر ہٹایا جائے۔کسانوں نے منماڈ میں دھرنا دے کر انتظامیہ کے خلاف شدید ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ انہیں بغیر کسی پیشگی اطلاع یا مشاورت کے زمینوں پر ایم آئی ڈی سی کا اندراج کیا گیا، جس سے زمین کے لین دین، قرض کے معاملات اور دیگر قانونی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔احتجاجی کسانوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ انہیں بے زمین بنا کر دوسروں کو روزگار دینے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی اور وہ اپنی زمین کا ایک انچ بھی دینے کو تیار نہیں ہیں، چاہے اس کے لیے جان کیوں نہ دینی پڑے۔ کسانوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس معاملے میں کچھ افسران سیاسی دباؤ کے تحت کام کر رہے ہیں اور کسانوں کی زمینیں ہتھیانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس دوران کسانوں نے متعلقہ حکام کو ایک تحریری یادداشت بھی پیش کی، جس پر پی آر نیلے، انیل گنڈےچا، نیلیش چنُکے، شوکت شیخ، پرشانت کاتکڑے، کلیان ماکونے، شام راؤ شندے اور جینت جادھو سمیت سو سے زائد کسانوں کے دستخط موجود ہیں۔یادداشت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 7/12 ریکارڈ پر درج ایم آئی ڈی سی کا اندراج فوری منسوخ کیا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کیا جائے۔ کسانوں نے واضح انتباہ دیا کہ اگر فوری طور پر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اس احتجاج میں انکواڈے اور سٹانہ علاقوں کے بڑی تعداد میں کسان شریک ہوئے، جبکہ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ انتظامیہ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا فیصلہ کرتی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande