اس سال معمول سے کم بارش کا امکان، ال نینو کا اثر برقرار
ممبئی ، 07 اپریل (ہ س)۔ اس سال مہاراشٹر سمیت ملک بھر میں معمول سے کم بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ ''ال نینو'' کے اثر کے باعث تقریباً 30 فیصد خشک سالی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے کسانوں کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔نجی موسمیات
اس سال معمول سے کم بارش کا امکان، ال نینو کا اثر برقرار


ممبئی ، 07 اپریل (ہ س)۔ اس سال مہاراشٹر سمیت ملک بھر میں معمول سے کم بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ 'ال نینو' کے اثر کے باعث تقریباً 30 فیصد خشک سالی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے کسانوں کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔نجی موسمیاتی ادارے اسکائی میٹ کے مطابق رواں سال مانسون اوسط سے کم رہنے کا امکان ہے اور مجموعی طور پر تقریباً 94 فیصد بارش متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ال نینو کے اثرات کے باعث خاص طور پر جولائی اور اگست میں بارش کم ہو سکتی ہے، جبکہ جون میں بارش معمول کے مطابق رہنے کی امید ہے۔اس پیش گوئی کے مطابق ملک کے وسطی اور شمال مغربی علاقوں میں بارش کی کمی کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں پانی کی قلت پیدا ہو سکتی ہے اور زرعی سرگرمیاں متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کم بارش کا اثر نہ صرف کھیتی باڑی بلکہ دیگر آبی وسائل پر بھی پڑ سکتا ہے، جس سے دیہی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کی جانب سے آئندہ ہفتے مانسون سے متعلق پہلی سرکاری پیش گوئی جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ واضح رہے کہ ملک کی سالانہ بارش کا تقریباً 70 فیصد حصہ جنوب مغربی مانسون سے حاصل ہوتا ہے، جو جون سے ستمبر کے درمیان ہوتا ہے اور زرعی شعبے کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ ملک کی بڑی آبادی کا انحصار زراعت پر ہے، جبکہ خریف فصلوں کی بوائی جون اور جولائی میں ہوتی ہے، اس لیے مانسون کا بروقت آنا اور اس کی مناسب تقسیم انتہائی ضروری ہوتی ہے۔عام طور پر جنوب مغربی مانسون یکم جون کو کیرالہ پہنچتا ہے اور 15 جولائی تک پورے ملک میں پھیل جاتا ہے، جبکہ اس دوران اوسطاً 868.6 ملی میٹر یعنی تقریباً 94 فیصد بارش ریکارڈ کی جاتی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande